کتاب محفوظ
Urdu book, p. 120
By Maulana Wahiduddin Khan
انی جاعل فی الارض خلیفتى (میں زمین میں اپنا خلیفہ مقرر کرنے والا ہوں) یا انی جاعل فی الارض خليفة مني (میں زمین میں اپنی جانب سے ایک خلیفہ مقرر کرنے والا ہوں) دوسری آسمانی کتابوں میں سے ہر کتاب میں یہ ہوا ہے کہ ان کتابوں کے ماننے والے اپنے طور پر جو کچھ چاہتے تھے وہ سب انھوں نے خدا کی کتاب میں کہیں نہ کہیں داخل کر دیا۔ مثال کے طور پر یوحنا کی موجودہ انجیل میں ہم کو یہ فقره ملتا ہے : "دوسرے دن اس نے یسوع کو اپنی طرف آتے دیکھ کر کہا، دیکھو یہ خدا کا برّہ ہے جو دنیا کا گناہ اٹھا لے جاتا ہے۔ یہ وہی ہے جس کی بابت میں نے یہ کہا تھا کہ ایک شخص میرے بعد آتا ہے جو مجھ سے مقدم ٹھہرا ہے کیونکہ وہ مجھ سے پہلے تھا" (یوحنا، 30:29-)۔ انجیل یوحنا کا یہ فقرہ حضرت یحیٰی کی زبان سے حضرت مسیح کے بارے میں ہے۔ حضرت یحییٰ کی یہ تقریر بقیہ تینوں انجیلوں میں بھی ہے مگر ان میں "جو دنیا کا گناہ اٹھا لے جاتا ہے" موجود نہیں۔ یہ الفاظ یقینی طور پر بعد کو اصل تقریر میں اس لیے بڑھائے گئے تا کہ ان سے کفارہ کا عقیدہ نکالا جا سکے۔ بعد کے مسیحیوں کا پسندیدہ عقیدہ (کفارہ) کو انجیل سے ثابت کرنے کے لیے حضرت یحییٰ کی مذکورہ تقریر میں یہ جملہ بڑھا دیا گیا۔ حالانکہ وہ اگر حضرت یحییٰ کا جملہ ہوتا تو چاروں انجیلوں میں موجود ہوتا۔ یہی بات قرآن میں بھی ہو سکتی تھی۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کے بہت سے انتہائی محبوب عقیدے بھی قرآن کے متن کے اندر موجود نہیں۔ مثال کے طور پر رسول

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader