کتاب محفوظ
Urdu book, p. 119
By Maulana Wahiduddin Khan
یا ایہا النبی اذا طلقت النساء (اے نبی، جب تو عورتوں کو طلاق دے)، یا ایہا الرسل اذا طلقتم النساء (اے رسولو، جب تم سب لوگ عورتوں کو طلاق دو)۔ یہی معاملہ طرز تحریر کا ہے۔ عربی فن خطاطی نے بعد کے زمانے میں بہت زیادہ ترقی کی۔ جب کہ قرآن اس وقت لکھا گیا جب کہ فن خطاطی نے ابھی اتنی ترقی نہیں کی تھی ۔ چنانچہ قرآن کے طرز کتابت میں اور عام خطوط کے طرز کتابت میں بہت سے مقامات پر فرق ہے۔ مثلاً قرآن میں مالک کو ملک لکھا ہوا ہے۔ حتیٰ کہ اس طرز کتابت کی وجہ سے آیت کے دو تلفظ بن گئے ہیں۔ کوئی اس کو مَا لِکَ یَوْمِ الدّین پڑھ رہا ہے اور کوئی اس کو مَلِکِ یوم الدین (1:4) پڑھتا ہے۔ اس کے باوجود کسی کے لیے یہ ممکن نہ ہوا کہ آیت کا املاء بدل کر اس کو مالک یوم الدین بنادے۔ قرآن کے حاشیہ میں بعد کے لوگوں نے جو معنوی تبدیلیاں کی ہیں۔ ان میں سے ایک مثال قرآن کی یہ آیت ہے: اِنّی جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیفَةً (2:30)۔ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ بعد کے متعدد مفسرین نے اس آیت میں خلیفہ کے لفظ کو خلیفۃ اللہ کے ہم معنی بنا دیا اور اس کی تشریح ان الفاظ میں کی کہ ــ خدا نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں اپنا ایک خلیفہ مقرر کرنے والا ہوں۔ حالانکہ "اپنا" کا لفظ یہاں سراسر اضافہ ہے۔ ان حضرات نے حاشیہ میں تو اس قسم کے اضافے خوب کیے، مگر متن میں اضافہ کرنا ان کے لیے ممکن نہ ہو سکا۔ اگر قرآن کے متن پر خدا کا پہرہ نہ ہوتا تو غالباً وہ آیت کے الفاظ کو ناکافی سمجھ کر اس کو اس طرح لکھ دیتے:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader