کتاب محفوظ
Urdu book, p. 122
By Maulana Wahiduddin Khan
خدائی اہتمام یہود کو خدا کی طرف سے یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ تو رات کی حفاظت کریں: بتا اِسْتُحْفِظُوا مِنْ كِتَبِ اللَّهِ (5:44)۔ اس کے برعکس ، قرآن کے بارے میں ارشاد ہوا ہے: اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ (15:9)۔ ہم نے قرآن اتارا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ پچھلی آسمانی کتابوں کو محفوظ رکھنے کی ذمہ داری ان کی قوموں پر ڈالی گئی تھی، جب کہ قرآن کو محفوظ رکھنے کی ذمہ داری خود اللہ تعالیٰ نے لی ہے۔ پچھلی آسمانی کتابیں بھی اسی طرح خدا کی کتاب تھیں جس طرح قرآن خدا کی کتاب ہے۔ مگر فرق یہ ہے کہ پچھلی آسمانی کتابوں کے حامل ان کتابوں کی حفاظت کے بارے میں اپنی ذمہ داری کو پورا نہ کر سکے۔ یہ کتابیں اپنی اصلی صورت میں باقی نہ رہیں۔ مگر قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ نے لی تھی اس لیے قرآن خدا کی خصوصی مدد سے مکمل طور پر محفوظ رہا۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آسمان سے خدا کے فرشتے اتریں گے اور وہ قرآن کو اپنے سایہ میں لیے رہیں گے۔ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں اخروی حقیقتوں کو غیب میں رکھا گیا ہے۔ اس لیے یہاں کبھی ایسا نہیں ہو سکتا کہ فرشتے سامنے آکر قرآن کی حفاظت کرنے لگیں۔ موجودہ دنیا میں اس قسم کا کام ہمیشہ معمول کے حالات میں کیا جاتا ہے، نہ کہ غیر معمولی حالات میں۔ یہاں قرآن کی حفاظت کا کام تاریخی اسباب اور چلتے پھرتے انسانوں کے ذریعہ لیا جائے گا تا کہ غیب کا پردہ باقی رہے۔ واقعات بتاتے ہیں کہ خدا نے اپنے وعدہ کو پوری تاریخ میں نہایت اعلی پیمانے پر انجام دیا ہے۔ اس مقصد کے لیے اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader