کتاب محفوظ
Urdu book, p. 123
By Maulana Wahiduddin Khan
نے مختلف قوموں سے مدد لی ہے۔ نیز اس کام میں مسلمانوں کو بھی استعمال کیا گیا ہے اور غیر مسلموں کو بھی۔ پچھلے انبیاء کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا کہ ان کو بہت کم ایسے ساتھی ملے جو ان کے بعد ان کی کتاب کی حفاظت کی مضبوط ضمانت بن سکتے۔ مگر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ نمایاں طور پر دوسرے انبیاء سے مختلف ہے۔ وفات سے تقریباً ڈیڑھ ماہ پہلے آپ نے حج کیا جس کو حِجۃ الوداع کہا جاتا ہے۔ اس موقع پر عرفات کے میدان میں ایک لاکھ چالیس ہزار مسلمان موجود تھے۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے آخر وقت تک آپ کے اوپر ایمان لانے والے مردوں اور عورتوں کی کل تعداد کم از کم پانچ لاکھ ہو چکی ہوگی۔ یہ تعداد قدیم انسانی آبادی کے لحاظ سے بہت غیر معمولی ہے۔ آپ کے بعد یہ تعداد بڑھتی رہی۔ یہاں تک کہ ملک کے ملک مسلمان ہوتے چلے گئے۔ اس طرح قرآن کی حفاظت کی پشت پر اتنا بڑا انسانی گروہ اکٹھا کر دیا گیا جو اس سے پہلے کسی آسمانی کتاب کی حفاظت کے لیے اکٹھا نہیں ہوا تھا۔ اس کے بعد دوسرا مددگار واقعہ یہ ظہور میں آیا کہ عرب اور عرب کے باہر مسلمانوں کی فتوحات کا سلسلہ شروع ہوا۔ یہ سلسلہ یہاں تک پھیلا کہ قدیم آباد دنیا کے بیشتر حصہ پر مسلمان قابض ہو گئے اور انہوں نے دنیا کی سب سے بڑی اور سب سے مضبوط سلطنت قائم کی۔ یہ سلطنت کسی طاقت سے مغلوب ہوئے بغیر مسلسل قائم رہی اور قرآن کی حفاظت کرتی رہی۔ یہ سلسلہ ایک ہزار سال تک جاری رہا۔ یہاں تک کہ زمانہ پریس کے دور میں پہنچ گیا اور قرآن کے ضائع ہونے کا امکان سرے سے ختم ہو گیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader