منصوبہ خداوندی
Urdu book, p. 129
By Maulana Wahiduddin Khan
منصوبہ خداوندی حضرت آدم پہلے انسان تھے اور اسی کے ساتھ پہلے پیغمبر بھی۔ بعض روایات کے مطابق حضرت آدم کے بعد تقریباً ایک ہزار سال تک آپ کی نسل توحید اور دین حق پر قائم رہی۔ اس کے بعد ملت آدم میں شرک کا غلبہ ہو گیا (البقرہ، 2:213)۔ حضرت نوح اسی ملت آدم کی اصلاح کے لیے آئے جو اس وقت دجلہ اور فرات کے سر سبز علاقے میں آباد تھی۔ تاہم حضرت نوح کی طویل کوششوں کے باوجود ملت آدم دوبارہ مشرکانہ دین کو چھوڑنے کے لیے تیار نہ ہوئی۔ ان میں سے صرف چند آدمی تھے جو حضرت نوح پر ایمان لائے۔ چنانچہ عظیم طوفان آیا اور چند مومنین کو چھوڑ کر باقی تمام لوگ غرق کر دیے گئے۔ اس کے بعد ملت نوح کے ذریعہ دوبارہ انسانی نسل چلی۔ لیکن دوبارہ وہی قصہ پیش آیا جو اس سے پہلے پیش آچکا تھا۔ کچھ عرصہ بعد بیشتر لوگ دین توحید کو چھوڑ کر دین شرک پر چل پڑے۔ یہی قصہ ہزاروں سال تک بار بار پیش آتا رہا۔ خدا نے لگاتار پیغمبر بھیجے (المومنون، 44: 23)۔ مگر انسان ان سے نصیحت قبول کرنے پر تیار نہ ہوا۔ حتی کہ تمام پیغمبروں کو استہزاء کا موضوع بنا لیا گیا (یس، 36:30)۔ یہ سلسلہ ہزاروں برس تک جاری رہا۔ یہاں تک کہ تاریخ میں شرک کا تسلسل قائم ہو گیا۔ اس زمانے کے انسانی معاشروں میں جو شخص بھی پیدا ہوتا وہ اپنے ماحول کی ہر چیز سے شرک کا سبق لیتا۔ مذہبی رسموں، سماجی تقریبات، قومی میلے اور حکومتی نظام تک ہر چیز مشرکانہ عقائد پر قائم ہو گئی۔ نوبت یہاں تک آپہنچی کہ جو انسان بھی پیدا ہو وہ شرک کی فضا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader