Urdu book · عظمتِ قرآن

منصوبہ خداوندی

Urdu book, p. 130

By Maulana Wahiduddin Khan

میں آنکھ کھولے اور شرک ہی کے ماحول میں اس کا خاتمہ ہو جائے۔ اسی چیز کو میں نے تاریخ میں شرک کا تسلسل قائم ہو جانے سے تعبیر کیا ہے، اور یہی وہ حقیقت ہے جو حضرت نوح کی دعا میں ان الفاظ میں ملتی ہے: وَلَا يَلِدُوْا إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا (71:27)۔ اور ان کی نسل سے جو بھی پیدا ہوگا، وہ بدکار اور سخت منکر ہی ہوگا۔ اب تاریخ حضرت ابراہیم تک پہنچ چکی تھی جن کا زمانہ 2100 قبل مسیح ہے۔ خود حضرت ابراہیم نے قدیم عراق میں جو اصلاحی کوششیں کیں ان کا بھی وہی انجام ہوا جو آپ سے پہلے دوسرے نبیوں کا ہوا تھا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہدایت کے لیے منصوبہ بنایا۔ وہ منصوبہ یہ تھا کہ خصوصی اہتمام کے ذریعے ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کے تسلسل سے منقطع ہو کر پرورش پائے۔ اپنی فطری حالت پر قائم رہنے کی وجہ سے اس کے لیے توحید کو قبول کرنا آسان ہو جائے۔ پھر اسی گروہ کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے کہ وہ تاریخ میں جاری ہونے والے شرک کے تسلسل کو توڑے ۔ اس وقت حضرت ابراہیم کو حکم ہوا کہ وہ عراق اور شام اور مصر اور فلسطین جیسے آباد علاقوں کو چھوڑ کر قدیم مکہ کے غیر آباد علاقے میں جائیں۔ اور وہاں اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے شیر خوار بچے اسماعیل کو بسا دیں۔ یہ علاقہ وادی غیر ذی زرع ہونے کی وجہ سے اس زمانے میں بالکل غیر آباد تھا۔ اس بنا پر وہ قدیم مشرکانہ تہذیب سے پوری طرح پاک تھا۔ حضرت ابراہیم کی دعا میں عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ (14:37) سے یہی چیز مراد ہے۔ یعنی ایک ایسا مقام جو شرک کی پہنچ سے دور ہو۔ حضرت ابراہیم کی اس دعا کا مطلب یہ تھا کہ خدایا، میں نے اپنی اولاد کو ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page