Urdu book · عظمتِ قرآن

دورِ جدید میں احیاء اسلام

Urdu book, p. 143

By Maulana Wahiduddin Khan

پیدا شدہ مواقع کو استعمال کیا جائے۔ 1۔ موجودہ زمانے میں احیا اسلام کی مہم کو کامیاب بنانے کے لیے سب سے پہلے افراد کار کی ضرورت ہے۔ گویا یہ اب دوبارہ ایک نئے انداز سے وہی چیز درکار ہے جو حضرت ابراہیم کے منصوبہ میں مطلوب تھی۔ یعنی حقیقی معنوں میں ایک مسلم گروہ کی تیاری۔ موجودہ زمانے میں اسلامی احیا کی مہم چلانے کے لیے جو افراد درکار ہیں وہ عام قسم کے مسلمان نہیں ہیں بلکہ ایسے لوگ ہیں جن کے لیے اسلام ایک دریافت (discovery) بن گیا ہو۔ وہ واقعہ جو سب سے زیادہ کسی انسان کو متحرک کرتا ہے وہ یہی دریافت کا واقعہ ہے جب آدمی کسی چیز کو دریافت کے درجہ میں پائے تو اچانک اس کے اندر ایک نئی شخصیت ابھر آتی ہے۔ یقین، حوصلہ، عزم، فیاضی، قربانی، اتحاد، غرض وہ تمام اوصاف جو کوئی بڑا کام کرنے کے لیے درکار ہیں، وہ سب دریافت کی زمین پر پیدا ہوتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں مغربی اقوام میں جو اعلیٰ اوصاف پائے جاتے ہیں وہ سب اسی دریافت کا نتیجہ ہیں۔ مغربی قوموں نے روایتی دنیا کے مقابلے میں سائنسی دنیا کو دریافت کیا ہے۔ یہی دریافت کا احساس ہے جس نے مغربی قوموں میں وہ اعلیٰ اوصاف پیدا کر دیے ہیں جو آج ان کے اندر پائے جاتے ہیں۔ قرن اول میں اصحاب رسول کا معاملہ بھی یہی تھا۔ ان کو خدا کا دین بطور دریافت کے ملا تھا۔ انھوں نے جاہلیت کے مقابلے میں اسلام کو پایا تھا۔ انھوں نے شرک کے مقابلے میں توحید کو دریافت کیا تھا۔ ان پر دنیا کے مقابلے میں آخرت کا انکشاف ہوا تھا۔ یہی چیز تھی جس نے ان کے اندر وہ غیر معمولی اوصاف پیدا کر دیے جن کو آج ہم کتابوں میں پڑھتے ہیں۔ آج

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page