عظمتِ قرآن
Urdu book, p. 142
By Maulana Wahiduddin Khan
عظمت اور خوف سے آنسو بہانے لگیں۔ وہ آدمی کو اس درجہ احسان تک پہنچادے جس کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4777)۔ اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو۔ دورِ جدید میں احیاء اسلام موجودہ زمانے میں تاریخ دوبارہ وہیں پہنچ گئی ہے جہاں وہ ڈیڑھ ہزار سال پہلے کے دور میں پہنچی تھی۔ قدیم زمانے میں انسان کے اوپر شرک کا غلبہ اس طرح ہوا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہو گیا۔ اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ ہر شخص جو انسانی نسل میں پیدا ہوتا وہ مشرک پیدا ہوتا۔ اب پچھلے چند سو سال کے عمل کے نتیجے میں ملحدانہ افکار انسان کے اوپر غالب آگئے ہیں۔ علم و عمل کے ہر شعبے میں الحادی طرزِ فکر اس طرح چھا گیا ہے کہ دوبارہ تاریخ انسانی الحاد کا تسلسل قائم ہو گیا ہے۔ اب ہر شخص جو پیدا ہوتا ہے، خواہ وہ دنیا کے کسی حصے میں پیدا ہو، وہ ملحدانہ افکار کے زیر اثر پیدا ہوتا ہے۔ الحاد آج کا غالب دین ہے۔ اور اسلام کا احیاء موجودہ زمانے میں اس وقت تک ممکن نہیں جب تک الحاد کو فکری غلبے کے مقام سے ہٹایا نہ جائے۔ موجودہ زمانہ میں احیاء اسلام کو ممکن بنانے کے لیے دوبارہ وہی دونوں طریقے اختیار کرنے ہیں جو پہلے غلبہ کے وقت اختیار کیے گئے تھے۔ یعنی افراد کی تیاری، اور مخالفین حق کی مغلوبیت۔ پہلا کام ہم کو خود اپنے وسائل کے تحت انجام دینا ہے۔ جہاں تک دوسرے کام کا تعلق ہے، اس کو موجودہ زمانے میں دوبارہ خدا نے اسی طرح بہت بڑے پیمانے پر انجام دے دیا ہے جس طرح اس نے دور اول میں انجام دیا تھا۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ ان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader