Urdu book · عظمتِ قرآن

دورِ جدید میں احیاء اسلام

Urdu book, p. 145

By Maulana Wahiduddin Khan

۔ قرآن و حدیث سے دین کو اخذ کرنے والے لوگ ہی سنجیدگی اور احساس ذمہ داری کے تحت کوئی حقیقی مہم چلا سکتے ہیں۔ اس کے برعکس ، جو لوگ تاریخ سے اپنا دین اخذ کریں وہ صرف اپنے فخر کا جھنڈا بلند کریں گے۔ وہ کسی نتیجہ خیز عمل کا ثبوت نہیں دے سکتے۔ مسلمان موجودہ زمانے میں ایک شکست خوردہ قوم بنے ہوئے ہیں۔ پوری مسلم دنیا پر ایک قسم کا احساس مظلومی (persecution complex) چھایا ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہی تاریخ سے دین کو اخذ کرنا ہے۔ ہم نے تاریخی عظمت کو دین سمجھا۔ ہم نے "لال قلعہ" اور "غرناطہ" میں اپنی اسلامیت کا تشخص دریافت کیا۔ چوں کہ موجودہ زمانے میں دوسری قوموں نے ہم سے یہ چیزیں چھین لیں ، اس لیے ہم فریاد و ماتم میں مشغول ہوگئے۔ اگر ہم ہدایت ربانی کو دین سمجھتے تو ہم کبھی بھی احساس محرومی کا شکار نہ ہوتے۔ کیوں کہ وہ ایسی چیز ہے جس کو کوئی طاقت ہم سے کبھی چھین نہیں سکتی۔ ہم نے چھن جانے والی چیزوں کو اسلام سمجھا۔ اس لیے جب وہ چھن گئی تو ہم شکایت اور محرومی کا پیکر بن کر رہ گئے۔ اگر ہم نہ چھننے والی چیز کو اسلام سمجھتے تو ہمارا کبھی وہ حال نہ ہوتا جو آج ہر طرف نظر آرہا ہے۔ کیسی عجیب بات ہے کہ جو زیادہ بڑی چیز ہمارے پاس ابھی تک بغیر چھنی ہوئی محفوظ ہے ، اس کا ہمیں شعور نہیں۔ اور جو چھوٹی چیز ہم سے چھن گئی ہے اس کے لیے ہم شکایت اور احتجاج میں مصروف ہیں۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ ساری دنیا میں مسلمان دوسری قوموں سے لڑائی جھگڑے میں مصروف ہیں۔ وہ اسلام کو اپنی قومی عظمت کا نشان سمجھتے ہیں۔ اس لیے جو لوگ انھیں اس عظمت کو چھینتے ہوئے نظر آتے ہیں ان کے خلاف وہ لڑنے کے لیے کھڑے ہو گئے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page