Urdu book · عظمتِ قرآن

دورِ جدید میں احیاء اسلام

Urdu book, p. 146

By Maulana Wahiduddin Khan

ہیں۔ کہیں یہ لڑائی الفاظ کے ذریعہ ہورہی ہے اور کہیں ہتھیاروں کے ذریعہ۔ اس صورت حال نے مسلمانوں کے پورے رویہ کو منفی بنادیا ہے۔ اسلام اگران کوربانی ہدایت کے طور پر ملتا تو وہ محسوس کرتے کہ ان کے پاس دوسری قوموں کو دینے کے لیے کوئی چیز ہے۔ وہ اپنے کو دینے والا سمجھتے اور دوسرے کو لینے والا۔ جب کہ موجودہ حالت میں وہ سمجھتے ہیں کہ وہ چھینے ہوئے لوگ ہیں اور دوسرے چھینے والے لوگ۔ ہمارے اور دوسری قوموں کے درمیان حقیقی رشتہ داعی اور مدعو کارشتہ ہے۔ مگر تاریخی اسلام کو اسلام سمجھنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ دوسری قومیں ہمارے لیے صرف حریف اور رقیب بن کر رہ گئی ہیں۔ ہمارے اور دوسری قوموں کے درمیان جب تک یہ حریفانہ فضا باقی ہے، اسلامی احیاء کا کوئی حقیقی کام شروع نہیں کیا جاسکتا۔ پہلے ہی مرحلہ میں ایسا نہیں ہو سکتا کہ تمام مسلمانوں کو حریفانہ نفسیات سے پاک کر دیا جائے۔ مگر کم سے کم ایک ایسی ٹیم کا ہونا ضروری ہے جس کے افراد اپنی حد تک اس ذہنی فضا سے نکل چکے ہوں۔ جن کے اندر ایسی فکری تبدیلی آچکی ہو کہ دوسری قوموں کو وہ اپنا مدعو سمجھیں، نہ کہ مادی حریف اور قومی رقیب۔ یہ بظاہر سادہ سی بات انتہائی مشکل بات ہے۔ اس کے لیے اپنے آپ کو ذبح کرنا پڑتا ہے۔ اپنے اور دوسری قوموں کے درمیان داعی اور مدعو کارشتہ قائم کرنے کی لازمی شرط یہ ہے کہ ہم یک طرفہ طور پر تمام شکایتوں کو بھلا دیں۔ ہر قسم کے مادی نقصانات کو گوارا کرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔ داعی اور مدعو کارشتہ داعی کی طرف سے یک طرفہ قربانی پر قائم ہوتا ہے۔ اور موجودہ دنیا میں بلاشبہ یہ سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔ یہ اور اس طرح کے دوسرے اوصاف ہیں جو ان لوگوں میں ہونا ضروری ہیں جو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page