دورِ جدید میں احیاء اسلام
Urdu book, p. 151
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ صدی کے نصف آخر میں بے شمار نئے حقائق انسان کے علم میں آئے ہیں جو نہایت برتر سطح پر دینی عقائد کی حقانیت کو ثابت کر رہے ہیں۔ مگر ابھی تک کوئی ایسادینی مفکر سامنے نہیں آیا جو ان سائنسی معلومات کو دینی صداقتوں کے اثبات کے طور پر مدون کرے ۔ اگر یہ کام اعلیٰ سطح پر ہو سکے تو وہ دعوت توحید کے حق میں ایک علمی معجزہ ظاہر کرنے کے ہم معنی ہوگا۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ ماضی میں جتنے پیغمبر آئے سب کی پیغمبری پر ان کے ہم عصر مخاطبین نے شک کیا (ہود، 62)۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی ابتدا میں یہی صورت پیش آئی کہ آپ کے مخاطبین اول آپ کی نبوت پر شک کرتے رہے (ص، 38:8)۔ تاہم اسی کے ساتھ قرآن میں یہ اعلان کیا گیا کہ آپ کو مقام محمود پر کھڑا کیا جائیگا: عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا (17:79)۔ اس اعلان کا مطلب یہ تھا کہ آپ کی نبوت شک کے مرحلے سے گزر کر ایک ایسے مرحلے میں پہنچے گی جب وہ مکمل طور پر تسلیم شدہ نبوت بن جائے۔ محمود (قابل تعریف) ہونا تسلیم و اعتراف کا آخری درجہ ہے۔ ہر نبی جب پیدا ہوتا ہے تو وہ اپنی قوم کے اندر ایک ایسی شخصیت ہوتا ہے جسے کو لوگ شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ "معلوم نہیں یہ واقعتاً پیغمبر ہیں یا صرف دعویٰ کر رہے ہیں" اس طرح کے خیالات لوگوں کے ذہن میں گھومتے ہیں اور آخر وقت تک ختم نہیں ہو پاتے۔ پیغمبری اپنے ابتدائی دور میں صرف دعویٰ ہوتی ہے۔ وہ اپنے دعویٰ کا ایسا ثبوت نہیں ہوتی جس کو ماننے پر لوگ مجبور ہو جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی پیغمبر آیا وہ اپنی قوم کی نظر میں ایک نزاعی شخصیت بن

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader