Urdu book · عظمتِ قرآن

دورِ جدید میں احیاء اسلام

Urdu book, p. 150

By Maulana Wahiduddin Khan

مقصدیت کی دریافت واضح طور پر ناظم کی موجودگی کا اقرار ہے۔ وہ کائنات کے پیچھے خدائی کارفرمائی کا یقینی ثبوت ہے۔ مگر موجودہ زمانے کے بے خدا مفکرین نے یہ کہا کہ اس سائنسی دریافت کا رخ الحاد کی طرف موڑ دیا۔ انھوں نے کہا کہ جو کچھ ثابت ہوا ہے وہ بجائے خود واقعہ ہے۔ مگر اس کا کیا ثبوت کہ وہ کوئی نتیجہ (end) ہے۔ عین ممکن ہے کہ وہ محض ایک اثر (effect) ہو۔ یعنی یہ ضروری نہیں ہے کہ یہاں کوئی ذہن ہو جو شعور اور ارادے کے تحت بالقصد واقعات کو ایک خاص انجام کی طرف لے جا رہا ہو۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ واقعات کے بے شعور عمل کے اثر سے اپنے آپ ایک چیز بر آمد ہو رہی ہو جو اتفاق سے با معنی بھی ہو۔ یہ بے معنی توجیہہ خود ایک ارادہ کے تحت وجود میں آئی ہے۔ پھر کیسی عجیب بات ہے کہ کائنات کو بلا ارادہ کارفرمائی مان لیا جائے۔ ایک طرف سائنس کے ظہور کے بعد ملحد مفکرین نے بہت بڑے پیمانے پر سائنس کو الحاد کا رخ دینے کی کوشش کی ہے۔ دوسری طرف اس کے مقابلے میں مذہبی مفکرین کی کوششیں اتنی ہی کم ہیں۔ پچھلے سو سال کے اندر ایک طرف ہزاروں کی تعداد میں اعلیٰ علمی کتابیں چھپی ہیں جن کے ذریعہ سائنس سے غلط طور پر الحاد کو برآمد کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ دوسری طرف دینی مفکرین کی صف میں چند ہی قابلِ ذکر علمی کوششوں کا نام لیا جا سکتا ہے۔ ان میں سے ایک قابل قدر کتاب سر جیمز جینز کی پر اسرار کائنات (The Mysterious Universe) ہے۔ اس کتاب میں لائق مصنف نے نظریہ تعلیل (Principle of Causation) کو خالص سائنسی استدلال کے ذریعہ منہدم کر دیا ہے جس کو موجودہ زمانہ میں خدا کا مشینی بدل سمجھ لیا گیا تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page