کائنات کی گواہی
Urdu book, p. 157
By Maulana Wahiduddin Khan
سننے اور سمجھنے کے بعد بھی اس پکار کی طرف نہیں دوڑتا۔ انسان ساری کائنات کا اس سے بھی کہیں زیادہ چھوٹا حصہ ہے جتنا پوری زمین کے مقابلہ میں سرسوں کا ایک دانہ۔ پھر انسان کے لیے اس کے سوا کوئی راستہ کیسے درست ہو سکتا ہے جو وسیع تر کائنات کا راستہ ہے۔ اگر اتنی عظیم الشان دلیل کے باوجود آدمی اپنے لیے الگ راستے کا انتخاب کرتا ہے تو موجودہ کائنات میں وہ اپنے آپ کو بے استحقاق ثابت کر رہا ہے۔ اس کے بعد اس کا انجام صرف یہی ہو سکتا ہے کہ اس کو کائنات میں بے جگہ کر دیا جائے۔ کائنات کی تمام چیزیں اس کے ساتھ مساعدت کرنے سے انکار کر دیں۔ تمام کائناتی نعمتوں کو اس سے چھین کر اس کو ابدی محرومی میں ڈال دیا جائے۔ آدمی جس کائنات کا ہم سفر بننے کے لیے تیار نہیں، اس کو کیا حق ہے کہ اس کائنات کی چیزوں سے فائدہ اٹھائے۔ اس کے بعد بالکل فطری طور پر یہ انجام ہونا چاہیے کہ کائنات کو اس کی تمام نعمتوں کے ساتھ صرف ان انسانوں کو دے دیا جائے جو اس کے ہم سفر بنے، جنہوں نے اپنے خالق و مالک کی تابعداری اسی طرح کی جس طرح ساری کائنات کر رہی تھی۔ اس کے سوا وہ انسان جنہوں نے بغادت اور خودرائی کا طریقہ اختیار کیا، ان کو نہ اس دنیا کی روشنی میں حصہ دار بننے کا حق ہے اور نہ اس کی ہوا اور پانی میں۔ وہ اس دنیا میں نہ اپنے لیے مکان بنانے کا حق رکھتے اور نہ کھانے اور آرام کرنے کا۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ کائنات اپنے جنتی امکانات کے ساتھ صرف پہلے گروہ کے حصے میں آئے اور دوسرے گروہ کو یہاں کی تمام بہترین چیزوں سے محروم کر کے چھوڑ دیا جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader