کائنات کی گواہی
Urdu book, p. 156
By Maulana Wahiduddin Khan
بربادی پیدا کرنے والی ہوں۔ دو قسم کے پانی اپنی اپنی حد مقرر کیے ہوئے ہیں۔ ایک دوسرے کی حد کو نہیں توڑتا۔ حتیٰ کہ سانڈوں کا گروہ بھی اپنے اپنے حدود کو متعین کر لیتا ہے۔ ہر سانڈ اپنی حد کے اندر کھانا پیتا ہے، دوسرے سانڈ کی حد میں نہیں گھستا۔ مگر انسان کسی حد بندی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ شہد کی مکھیاں حد درجہ نظم اور تقسیم کار کے ساتھ اپنی تعمیری سرگرمیاں انجام دیتی ہیں۔ مگر انسان نظم و ضبط کو توڑتا ہے۔ چیونٹیاں اور چڑیاں رزق کی فراہمی میں اپنی محنت پر بھروسہ کرتی ہیں۔ وہ کسی سے چھین جھپٹ نہیں کرتے، مگر انسان دوسرے انسان کا استحصال کرتا ہے۔ کوئی شیر یا بھیڑیا اپنی نوع کے جانور کو نہیں پھاڑتا۔ مگر انسان انسان کا خون بہاتا ہے۔ کوئی جانور حتیٰ کہ سانپ بچھو بھی بلا وجہ کسی کے اوپر حملہ نہیں کرتے۔ وہ حملہ کرتے ہیں تو صرف اپنے بچاؤ کے لیے۔ مگر انسان دوسرے انسانوں کے اوپر ایک طرفہ جارحانہ کارروائیاں کرتا ہے۔ تمام جانور بقدر ضرورت کھاتے ہیں۔ بقدر ضرورت جنسی تعلقات قائم کرتے ہیں اور بقدر ضرورت گھر بناتے ہیں۔ مگر انسان ہر چیز میں اسراف اور بے راہ روی اور غیر ضروری تکلفات کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ تمام جانور صرف اپنے دائرہ کار میں اپنے کو مصروف رکھتے ہیں۔ مگر انسان اپنے دائرہ عمل کو چھوڑ کر دوسرے کے دائرہ میں مداخلت کرتا ہے۔ ایک چرواہا ہے کی پچاس بکریاں جنگل میں چرتے ہوئے ہزاروں بھیڑ بکریوں سے مل جائیں اور اس کے بعد ان کا چرواہا ایک مقام پر کھڑے ہو کر آواز دے تو اس کی تمام بکریاں نکل نکل کر اس کے پاس آجاتی ہیں۔ مگر انسان کا حال یہ ہے کہ اس کو خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بلایا جائے تو وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader