لٹریچر کی تیاری
Urdu book, p. 183
By Maulana Wahiduddin Khan
لٹریچر کی تیاری قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ خدا نے قلم کے ذریعہ انسان کو تعلیم دی: عَلَّمَ بِالْقَلَمِ (96:4)۔ اس سے اسلامی دعوت کے لیے لٹریچر کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ مگر اسلامی لٹریچر کا مطلب یہ نہیں کہ اسلام کے نام پر کچھ کتابیں لکھی جائیں اور ان کو کسی نہ کسی طرح مختلف زبانوں میں چھاپ کر تقسیم کر دیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی لٹریچر کا معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ یہ بشری سطح پر قرآن کا بدل فراہم کرنا ہے۔ خدا نے اپنا کلام عربی زبان میں اتارا ہے۔ مگر اس کی تبلیغ دوسری زبان والوں تک بھی کرنی ہے، اور جیسا کہ قرآن سے ثابت ہے، مدعو کو ان کی اپنی زبان میں تبلیغ کرنی ہے (14:4)۔ اس لحاظ سے اگر عَلَّمَ بِالْقَلَم (96:4) کو وقتی نہ سمجھا جائے بلکہ اس کو ابدی پس منظر (perspective) میں رکھ کر دیکھا جائے تو یقینی طور پر انسان بھی اس میں شامل ہو جاتا ہے۔ کیوں کہ دوسری زبانوں میں تعلیم بالقلم کا فریضہ انسان ہی کو ادا کرنا ہے۔ گویا یہ کہنا صحیح ہوگا کہ خدا عربی زبان میں معلم بالقلم بنا تھا، اب ہم کو دوسری زبانوں میں معلم بالقلم بننا ہے۔ مشہور عرب شاعر لبید نے قرآن کو سن کر شاعری چھوڑ دی۔ کسی نے کہا کہ تم اب شاعری کیوں نہیں کرتے۔ انھوں نے کہا کہ قرآن کے بعد بھی: أبعد القرآن (الاستيعاب لابن عبد البر، جلد 3، صفحہ 1337)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن نے اپنے زمانہ کے افراد کو ذہنی طور پر مفتوح کر لیا تھا۔ اسی طرح آج دوبارہ ایسا اسلامی لٹریچر درکار ہے جو لوگوں کو ذہنی طور پر مفتوح کرلے۔ بظاہر یہ بات ناممکن دکھائی دیتی ہے۔ مگر اس ناممکن کو خود خدا نے ہمارے لیے ممکن

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader