Urdu book · عظمتِ قرآن

داعی اور مدعو کے تعلقات

Urdu book, p. 182

By Maulana Wahiduddin Khan

کا کام پوری قوت کیساتھ ہونے لگا۔ جنگی میدان میں اس وقت اسلام کمزور تھا۔ مگر جب مقابلہ پر امن تبلیغ کے میدان میں آگیا تو یہاں شرک کے پاس کچھ نہ تھا جس سے وہ توحید کی حقانیت کا مقابلہ کر سکے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ عرب کے قبائل اتنی کثرت سے اسلام میں داخل ہوئے کہ کفر کا زور بالکل ٹوٹ گیا اور معاہدہ کے صرف دو سال کے اندر مکہ فتح ہو گیا۔ موجودہ زمانہ میں بھی اسی طرح کے ایک "معاہدہ حدیبیہ" کی ضرورت ہے۔ مسلمان دوسری قوموں سے ہر جگہ مادی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ مسلمان چوں کہ اپنی غفلت کی وجہ سے مادی پہلو سے دوسری قوموں کے مقابلے میں بہت پیچھے ہو گئے ہیں، وہ ہر محاذ پر ان سے شکست کھا رہے ہیں۔ اب ضرورت ہے کہ یک طرفہ قربانی کے ذریعے ان محاذوں کو بند کر کے میدانِ مقابلے کو بدل دیا جائے۔ ان قوموں کو مادی مقابلے کے میدان سے ہٹا کر فکری مقابلے کے میدان میں لایا جائے۔ قدیم زمانے میں میدانِ مقابلہ کی یہ تبدیلی جنگ کو یک طرفہ طور پر ختم کر کے حاصل کی گئی تھی، آج یہ تبدیلی قومی حقوق کی مہم کو یک طرفہ طور پر ختم کر کے حاصل ہوگی۔ قومی مفادات کی یہ قربانی بلاشبہ ایک نہایت مشکل کام ہے مگر اسی کھونے میں پانے کا سارا راز چھپا ہوا ہے۔ مسلمان جس دن ایسا کریں گے اسی دن فتحِ اسلام کا آغاز ہو جائے گا۔ کیوں کہ فکری میدان میں کسی اور کے پاس کوئی چیز موجود ہی نہیں۔ مادی مقابلے کے میدان میں مسلمانوں کے پاس "روایتی ہتھیار" ہیں اور دوسری قوموں کے پاس "جدید ہتھیار"۔ جب کہ فکری میدان میں مسلمانوں کے پاس حقیقت ہے اور دوسری قوموں کے پاس تعصب، اور حقیقت کے مقابلہ میں تعصب دیر تک ٹھہر نہیں سکتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page