لٹریچر کی تیاری
Urdu book, p. 185
By Maulana Wahiduddin Khan
موافقت میں ایسے دلائل جمع کرنا ہے جس کے بعد مخاطب کے لیے انکار کی گنجائش باقی نہ رہے۔ قدیم زمانے میں اسی مقصد کے لیے خارق عادت معجزہ دکھایا جاتا تھا۔ موجودہ زمانے میں یہی کام رموز فطرت کو منکشـف کر کے سائنس نے انجام دے دیا ہے۔ واضح ہو کہ قرآن میں پیغمبرانہ معجزوں اور کائناتی نشانیوں کے لیے ایک ہی مشترک لفظ استعمال ہوا ہے اور وہ آیت (نشانی) ہے۔ خدا کے دین کی دعوت اتمام حجت کی حد تک مطلوب ہے (النساء، 165)۔ اسی اتمام حجت کے لیے قدیم زمانے میں پیغمبروں کے ذریعہ معجزے دکھائے گئے۔ اب سوال یہ ہے کہ آج کی قوموں کے لیے بھی یہی مطلوب ہے کہ دین کی دعوت ان کے سامنے اتمام حجت کی حد تک پیش کی جائے۔ پھر موجودہ زمانے میں اس کا ذریعہ کیا ہے جب کہ پیغمبروں کی آمد اب ختم ہو چکی ہے۔ جدید سائنسی انقلاب اسی سوال کا جواب ہے۔ جدید سائنسی انقلاب کے ذریعہ یہ ممکن ہو گیا ہے کہ دین حق کی تعلیمات کو عین اس معیار پر ثابت کیا جاسکے جو انسان کا اپنا تسلیم شدہ معیار ہے۔ اس سلسلے میں پہلی اہم ترین بات وہ ہے جو طریق استدلال (methodology) سے تعلق رکھتی ہے۔ جدید سائنس نے مختلف میدانوں میں اپنی تحقیقات کے نتیجے میں اس بات کا قطعی اقرار کیا ہے کہ استنباطی استدلال (inferential argument) اپنی نوعیت کے اعتبار سے اتنا ہی معقول (valid) ہے جتنا کہ براہ راست استدلال۔ یہی قرآن کا طرز استدلال ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں علم انسانی نے قرآن کے طرز استدلال کو عین وہی درجہ دے دیا ہے جو علوم دینیہ سے باہر خود انسان کا تسلیم شدہ طرز

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader