موافق امکانات
Urdu book, p. 192
By Maulana Wahiduddin Khan
تاریخی معیار پر ثابت نہیں ہوتے۔ پھر کس طرح ان کی واقعیت پر یقین کیا جائے اور ان کو مستند سمجھا جائے۔ آخر میں انھوں نے اسلام کا مطالعہ کیا۔ وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ اسلام کی تعلیمات آج بھی اپنی اصل صورت میں پوری طرح محفوظ ہیں۔ اسلام کی شخصیات مکمل طور پر تاریخی شخصیات ہیں نہ کہ دیومالائی شخصیات۔ وہ لکھتے ہیں کہ " میں نے پایا کہ پیغمبر اسلام کی زندگی میں کوئی چیز مبہم اور دھندلی نہیں۔ اور نہ پر اسرار یا دیومالائی ہے، جیسا کہ مثال کے طور پر، زرتشت اور شری کرشن کے یہاں، حتیٰ کہ بدھ اور مسیح کے یہاں ہے۔ دیگر پیغمبروں کے وجود تک کے بارے میں اہل علم نے شبہ کیا ہے۔ حتیٰ کہ انکار کیا ہے مگر جہاں تک میں جانتا ہوں، پیغمبر اسلام کے بارے میں کوئی یہ جرأت نہ کر سکا کہ ان کو تہماتی عقیدہ یا پریوں کی کہانی کہہ سکے۔" اس کے بعد ڈاکٹر نشی کانت چٹوپادھیائے کہتے ہیں: Oh, what a relief to find, after all a truly historical Prophet to believe in. (Why have I Accepted Islam, Dr Nishikanta Chattopadhyay) اُف، کیسا عجیب تسکین کا سامان ہے کہ بالا آخر آدمی واقعی معنوں میں ایک تاریخی پیغمبر کو پالے جس پر وہ ایمان لا سکے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں مقام محمود (17:79) کہا گیا ہے۔ نبوت تاریخی ہی کا دوسرا نام نبوتِ محمودی ہے۔ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام محمود پر کھڑا کرنے کا یہ مطلب ہے کہ آپ دوسرے پیغمبروں کی طرح، تاریخی طور پر کوئی نامعلوم شخصیت یا غیر ثابت شدہ شخصیت نہیں ہوں گے، بلکہ آپ تمام انسانوں کے لیے پوری طرح ایک معلوم اور مسلّم شخصیت ہوں گے۔ آپ کی سیرت بھی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader