موافق امکانات
Urdu book, p. 191
By Maulana Wahiduddin Khan
صورت ہے، کسی کو ماننے والا جب اس کو ماننے کی آخری حد پر پہنچتا ہے تو وہ اس کی تعریف کرنے لگتا ہے۔ اس اعتبار سے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی اسکیم یہ تھی کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلیم شدہ نبوت کے مقام پر کھڑا کرے۔ پیغمبر اسلام دنیا میں بھی محمود تھے اور آخرت میں بھی محمود، شفاعت کبریٰ جس کا ذکر حدیث میں ہے وہ آخرت میں آپ کا مقام محمود ہے اور آپ کا تاریخی طور پر مسلم اور معترف ہو نا دنیا میں آپ کا مقام محمود۔ خدا کی طرف سے ہر دور میں اور ہر قوم میں پیغمبر آئے۔ یہ سب پیغمبر تھے۔ ان سب کا پیغام بھی ایک تھا۔ مگر مختلف اسباب سے ان پیغمبروں کو تاریخی حیثیت حاصل نہ ہو سکی۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق آج کے انسان کے لیے ان پیغمبروں کی حیثیت نزاعی نبوت کی ہے، نہ کہ مسلمہ نبوت کی۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت تاریخی طور پر ایک ثابت شدہ نبوت ہے۔ جب کہ دوسرے نبیوں کی نبوت تاریخی طور پر ثابت شدہ نہیں، اس بنا پر آج یہ ممکن ہو گیا ہے کہ ہم تسلیم شدہ (established) نبوت کی سطح پر دین کی دعوت دے سکیں ۔ جب کہ اس سے پہلے ہمیشہ تنازعہ (controversial) نبوت کی سطح پر دین کی دعوت دینی پڑتی تھی۔ ڈاکٹر نشی کانت چٹو پادھیائے (اسلامی نام محمد عزیز الدین) ہندوستان کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندو تھے۔ وہ انیسویں صدی عیسوی کے نصف آخر میں حیدر آباد میں پیدا ہوئے۔ ڈاکٹر چٹو پادھیائے کو حق کی تلاش ہوئی۔ اس غرض سے انھوں نے ہندی، انگریزی، جرمن، فرانسیسی وغیرہ زبانیں سیکھیں۔ انھوں نے تمام مذاہب کا مطالعہ کیا۔ مگر وہ کسی پر مطمئن نہ ہو سکے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے پایا کہ یہ تمام مذاہب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader