Urdu book · عظمتِ قرآن

عظمتِ قرآن

Urdu book, p. 200

By Maulana Wahiduddin Khan

قسم یہ دنیا و آخرت کی بھلائی ہے۔ ان لوگوں نے کہا: مال کے ضائع ہونے اور اپنے اشراف کے قتل کے (اندیشہ کے باوجود) ہم آپ سے بیعت کر رہے ہیں۔ اس وقت اہل انصار نے آپ سے سوال کیا کہ اگر ہم آپ سے کیے اپنے وعدہ کو پورا کریں تو ہمارے لیے کیا ہے۔ آپ نے کہا: جنت۔ انھوں نے کہا: اپنا ہاتھ بڑھائیے، پھر ان لوگوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ اسی قسم کے باشعور اور باہمت اصحاب تھے جنھوں نے تاریخ میں شرک کے تسلسل کو ختم کیا اور انسانی تاریخ کے رخ کو بدل دیا۔ آج دوبارہ تاریخ کو وہی حرکت دینے کی ضرورت ہے جو ہمارے اسلاف نے اپنے زمانے میں دیا تھا۔ انھوں نے شرک کے دور کو ختم کر کے توحید کا دور شروع کیا۔ اب ہم الحاد کے دور کو ختم کر کے دوبارہ توحید کا دور انسانی تاریخ میں لانا ہے۔ یہ ایک بہت اعلیٰ کام ہے۔ اور اس کے لیے اعلیٰ افراد انتہائی طور پر ضروری ہیں۔ ضرورت ہے کہ ایک ایسا ادارہ قائم کیا جائے جہاں تعلیم و تربیت کے ذریعہ ایسے افراد تیار کیے جائیں۔ ڈاکٹر فلپ ہٹی کے الفاظ میں، آج اسلام کو دوبارہ ایک ہیروئوں کی نرسری (nursery of heroes) درکار ہے۔ اس کے بغیر یہ اہم کام انجام نہیں پاسکتا۔ مذکورہ درس گاہ گویا اسی قسم کی ایک نرسری ہو گی جہاں دعوت اسلامی کے ہیرو تیار کیے جائیں۔ دعوتی مرکز کا قیام اوپر میں نے ڈاکٹر منشی کانت چٹو پادھیا (اسلامی نام محمد عزیز الدین) کا ذکر کیا ہے۔ انھوں نے اپنے 1904ء کے لیکچر میں قدیم حیدر آباد میں کہا تھا:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page