کائنات کا آغاز
Urdu book, p. 45
By Maulana Wahiduddin Khan
1965ء میں بیک گراؤنڈ ریڈی ایشن (background radiation) کی دریافت نے اس کی مزید تصدیق کی، کیونکہ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ ابتدائی انفجار کے ریڈیائی بقایاہیں جو بھی تک کائنات کے بعض حصوں میں موجود ہیں۔ اسی طرح 1981ء میں بعض کہکشاؤں کی دریافت جو ہماری زمین سے دس ارب سال نور(light years) کے فاصلے پر واقع ہیں، وغیرہ۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (1984ء) میں بگ بینگ کے عنوان کے تحت اعتراف کیا گیا ہے کہ "اور اب اس نظریہ کو بیشتر علماء کو نیات کی تائید حاصل ہے": And it is now favoured by most cosmologists. یہ واقعہ اس بات کا نہایت واضح ثبوت ہے کہ قرآن کا مصنف ایک ایسی ہستی ہے جس کی نظر میں ماضی سے لے کر مستقبل تک کے تمام حقائق ہیں۔ وہ چیزوں کو وہاں سے دیکھ رہا ہے جہاں سے انسان نہیں دیکھ سکتا۔ وہ اس وقت بھی پوری طرح جان رہا ہوتا ہے جب کہ دوسروں کو کوئی علم نہیں ہوتا۔ شہد کی طبی اہمیت قرآن میں شہد کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس کے اندر شفا ہے : فِيهِ شِفَاءٌ لِلنَّاسِ (69 : 17)۔ مسلمانوں نے اس آیت کی روشنی میں شہد کے طبی پہلو پر بہت زور دیا۔ مسلمانوں کے یہاں دواسازی کے فن میں شہد کو خصوصی درجہ حاصل رہا ہے۔ مگر مغربی دنیا صدیوں تک اس کی طبی اہمیت سے بے خبر رہی۔ یورپ میں ابھی انیسویں صدی تک شہد کو بس ایک رقیق غذا (liquid food) کی حیثیت حاصل تھی۔ یہ صرف بیسویں صدی کی بات ہے کہ یورپ کے علماء نے یہ دریافت کیا کہ شہد کے اندر نافع

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader