Urdu book · عظمتِ قرآن

کائنات کا آغاز

Urdu book, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

"رتق" کے معنی ہیں منظم الا جزاء۔ یعنی کسی چیز کے تمام اجزاء کا ایک دوسرے میں گُھسا ہوا اور سمٹا ہوا ہونا۔ اور فتق کا لفظ اس کے برعکس عمل کے لیے ہے۔ یعنی ملے ہوئے اجزاء کو پھاڑ کر الگ الگ کر دینا۔ یہ آیت ساتویں صدی عیسوی میں اتری۔ بظاہر اس سے معلوم ہوتا تھا کہ کائنات کے مختلف اجزاء ابتداءً باہم ملے ہوئے اور سمٹے ہوئے تھے۔ اس کے بعد خدا نے ان کو پھاڑ کر جدا کر دیا تاہم نزولِ قرآن کے بعد صدیوں تک انسان کو معلوم نہ تھا کہ کائنات میں وہ کون سا معاملہ پیش آیا ہے جس کو قرآن نے رتق اور فتق سے تعبیر کیا ہے۔ پہلی بار اس کی معنویت 1927 میں سامنے آئی جب کہ جارج لیماترے (Georges Lemaitre) نے وہ نظریہ پیش کیا جس کو عام طور پر بگ بینگ (Big Bang) کہا جاتا ہے۔ جدید مشاہدہ بتاتا ہے کہ کائنات ہر لمحہ اپنے چاروں طرف پھیل رہی ہے۔ چنانچہ موجودہ کائنات کو پھیلتی ہوئی کائنات (expanding universe) کہا جاتا ہے۔ اس طرح کے مختلف مشاہدات نے سائنس دانوں کو اس نظریہ تک پہنچایا ہے کہ کائنات ابتداءً سمٹی ہوئی حالت میں تھی۔ اس وقت وسیع کائنات کے تمام اجزاء نہایت قوت سے باہم جڑے ہوئے تھے۔ اس ابتدائی مادہ کو کائناتی بیضہ (Cosmic egg) یا سپر ایٹم (Super atom) کہا جاتا ہے۔ ابتداءً سائنسی حلقہ میں اس کی مخالفت کی گئی۔ 1948ء تک بگ بینگ کے مقابلے میں اسٹیڈی اسٹیٹ نظریہ (Steady-state hypothesis) سائنس دانوں کے یہاں زیادہ قابل توجہ بنا رہا۔ 1950ء سے علم کا وزن بگ بینگ کے حق میں بڑھنے لگا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page