Urdu book · عظمتِ قرآن

عظمتِ قرآن

Urdu book, p. 9

By Maulana Wahiduddin Khan

کثِیرًا (4:82)۔ کیا لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے۔ اور اگر وہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ اس کے اندر بڑا اختلاف پاتے۔ اس آیت میں "اختلاف" کی تفسیر تفاوت، تعارض، تناقض، تضاد وغیرہ الفاظ سے کی گئی ہے۔ آر تھر آر بری (Arthur John Arberry, 1905-1969) نے اختلاف کا ترجمہ نامطابقت (inconsistency) کیا ہے۔ کلام میں تناقص نہ ہونا ایک انتہائی نادر صفت ہے جو صرف خدائے ذوالجلال کے یہاں پائی جاسکتی ہے۔ کسی انسان کے لیے ایسا کلام تخلیق کرنا ممکن نہیں۔ تناقص سے پاک کلام وجود میں لانے کے لیے ضروری ہے کہ صاحب کلام کا علم ماضی سے مستقبل تک کے امور کا احاطہ کیے ہوئے ہو۔ وہ تمام موجودات کا کلی علم رکھتا ہو۔ وہ چیزوں کی اصل ماہیت سے بلا اشتباہ پوری طرح باخبر ہو۔ اس کا علم براہ راست واقفیت پر مبنی ہو، نہ کہ بالواسطہ معلومات پر۔ اسی کے ساتھ اس کے اندر یہ انو کھی خصوصیت ہو کہ وہ اشیاء کو غیر متاثر ذہن سے ٹھیک ویسا ہی دیکھ سکتا ہو جیسا کہ وہ فی الواقع ہیں۔ یہ تمام غیر معمولی اوصاف صرف خدا میں ہو سکتے ہیں۔ کوئی انسان کبھی ان اوصاف کا حامل نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ خدا کا کلام ہمیشہ تضاد اور تناقض سے پاک ہوتا ہے۔ انسان کبھی ان اوصاف کا حامل نہیں ہوتا اس لیے انسان کا کلام کبھی تضاد اور تناقض سے پاک نہیں ہوتا۔ خدائی خاصہ کلام میں تضاد کا معاملہ کوئی اتفاقی معاملہ نہیں، یہ انسانی فکر کا لازمی خاصہ ہے۔ یہ دنیا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page