عظمتِ قرآن
Urdu book, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
اس طرح بنی ہے کہ وہ صرف خدائی فکر کو قبول کرتی ہے۔ اس دنیا میں یہ ناممکن ہے کہ خدا کو چھوڑ کر کوئی متوافق نظریہ بنایا جاسکے۔ خدا کے سواد دوسری بنیاد پر جو نظریہ بھی بنایا جائے گا، وہ فوراً تضاد کا شکار ہو جائے گا۔ وہ کائنات کے مجموعی ڈھانچہ سے ہم آہنگ نہیں ہو سکتا۔ اس دنیا میں کسی انسانی نظریہ کے لیے ممکن نہیں کہ وہ فکری تضاد سے خالی ہو سکےـ اس بات کو ہم یہاں مثال کے ذریعہ واضح کریں گے۔ نظریہ ارتقاء اس کی ایک مثال حیاتیاتی ارتقاء کا نظریہ ہے۔ ڈارون (1882-1809) اور دوسرے سائنسدانوں نے دیکھا کہ زمین پر جو مختلف انواع حیات موجود ہیں ان میں ظاہری اختلافات کے باوجود حیاتیاتی نظام کے اعتبار سے کافی مشابہت پائی جاتی ہے۔ مثلاً گھوڑے کا ڈھانچہ اگر کھڑا کیا جائے تو وہ انسان کے ڈھانچہ سے ملتا جلتا نظر آئے گا۔ اس قسم کے مختلف مشاہدات سے انہوں نے یہ نظریہ قائم کر لیا کہ انسان کوئی علاحدہ نوع نہیں۔ انسان اور حیوان دونوں ایک ہی مشترک نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ رینگنے والے جانور اور چوپائے اور بندر سب حیاتیات کے سفر ارتقاء کی پچھلی کڑیاں ہیں۔ اور انسان اس سفر ارتقاء کی اگلی کڑی ہے۔ یہ نظریہ ایک سو سال تک انسانی ذہن پر حکمران رہا۔ مگر بعد کو مزید مطالعہ نے بتایا کہ وہ کائنات کے مجموعی نظام سے ٹکرا رہا ہے۔ وہ اس کے اندر درست نہیں بیٹھتا۔ مثال کے طور پر سائنسی طریقوں کے استعمال سے اب یہ معلوم ہو گیا ہے کہ زمین کی عمر کیا ہے۔ چنانچہ اندازہ کیا گیا ہے کہ تقریباً دو ہزار ملین سال پہلے زمین وجود میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader