کائنات کا آغاز
Urdu book, p. 93
By Maulana Wahiduddin Khan
بڑھ کر جو چیز قرآن سے استفادہ یا فہم قرآن کے لیے ضروری ہے وہ انسان کا اپنا ارادہ ہے۔بقیہ علوم قرآن کو سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں مگر قرآن کو جذب کرنے کے لیے کسی خارجی علم کی ضرورت نہیں۔ انسان کا اپنا جذبہ طلب ہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے وہ قرآن کو جذب کرتا ہے۔ قرآن کتابِ ہدایت ہے۔ کسی کے ذہن میں قرآن کا اثر جانا دوسرے لفظوں میں یہ معنی رکھتا ہے کہ اس شخص کو ہدایت حاصل ہو گئی۔ اس کو خیر و شر کے دور استوں میں سے اس راستہ کو اختیار کرنے کی توفیق ملی جو اس کی زندگی کو کامیابی کی طرف لے جانے والا ہے۔ اور ہدایت کا ملنا نہ ملنا تمام تر آدمی کے اپنے ارادے پر منحصر ہے۔ ہدایت دینے والا خدا ہے۔ اس کے سوا کہیں اور سے آدمی ہدایت حاصل نہیں کر سکتا۔ مگر خدا کی طرف سے ہدایت اسی کو ملتی ہے جو اس کا طالب ہو۔ اس لیے قرآن کا مطالعہ اسی کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے اور کسی ایسے ہی شخص کو یہ توفیق ملتی ہے کہ قرآن اس کی زندگی میں داخل ہو جائے جس کو حقیقت کی تلاش ہو، جو واقعی صحیح معنوں میں ہدایت کی طلب رکھتا ہو۔ جو اپنے اندر یہ عزم پیدا کر چکا ہو کہ حق اس کو جہاں اور جس شکل میں بھی ملے گا وہ اس کو لے لے گا اور اس سے چمٹ جائے گا۔ قرآن کا علم کسی درس گاہ کی سند کے طور پر آدمی کو نہیں ملتا، نہ کتب خانوں اور لائبریری کی الماریوں سے اس کو ذہن میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔ یہ اسی کو ملتا ہے جو حقیقی معنوں میں قرآن کا طالب ہو، جس کے اندر اتنا حوصلہ ہو کہ ہر ذاتی رجحان کے مقابلہ میں حق کو ترجیح دے سکے، جو قرآن کو کتاب الہی سمجھ کر اس کا مطالعہ کرے، اور اس کے مقابلے میں اپنی وہ حیثیت قرار دے جو ایک بندے کی اپنے مالک کے فرمان کے مقابلے میں ہوتی ہے۔ جب بندہ اپنے آپ کو خالی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader