حفاظت قرآن
Urdu book, p. 97
By Maulana Wahiduddin Khan
حفاظت قرآن قرآن 23 سال کے عرصہ میں اترا۔ سب سے پہلی آیت جو اتری وہ آیتِ علم تھی: اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ (96:1)۔ یعنی، پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ اور آخری آیتِ آخرت: وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى الله (2:281)۔ یعنی، اور اس دن سے ڈرو جس دن تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ ابتدائی 23 سال تک خود رسول اللہ کی ذات قرآن کے اخذ کا ذریعہ تھی۔ اپنے بعد آپ نے کچھ لوگوں کو نامزد کر دیا کہ ان سے تم قرآن سیکھنا۔ یہ لوگ وہ تھے جنھوں نے نہایت صحت کے ساتھ پورے قرآن کو اپنے سینے میں محفوظ کر لیا تھا اور عربی زبان سے گہری واقفیت اور جناب رسول کی مسلسل صحبت کی وجہ سے اس قابل ہو گئے تھے کہ مستند طور پر قرآن کی تعلیم دے سکیں۔ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق کے زمانے میں ایک شخص کوفہ سے مدینہ آیا۔ گفتگو کے دوران اس نے آپ سے کہا کہ کوفہ میں ایک شخص یاد سے قرآن پڑھاتا ہے۔ یہ سن کر حضرت عمر غضب ناک ہو گئے۔ مگر جب معلوم ہوا کہ وہ بزرگ حضرت عبد اللہ بن مسعود ہیں، تو آپ خاموش ہو گئے۔ (الاستیعاب، جلد 1، صفحہ 377) اس کی وجہ یہی تھی کہ عبد اللہ بن مسعود آنحضرت کے اجازت یافتہ تھے۔ آپ کے مجاز قاریوں میں سے چند نمایاں افراد تھے - عثمان، علی، ابی ابن کعب، زید بن ثابت، ابن مسعود، ابو الدرداء، ابو موسیٰ اشعری، سالم مولیٰ ابی حذیفہ۔ مگر یہ اجازت یافتہ افراد ہمیشہ نہیں رہ سکتے تھے۔ یہ اندیشہ بہر حال تھا کہ کسی وقت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader