Urdu book · عظمتِ قرآن

حفاظت قرآن

Urdu book, p. 98

By Maulana Wahiduddin Khan

ایسے تمام لوگ ختم ہو جائیں اور قرآن دوسرے لوگوں کے ہاتھوں میں جاکر اختلاف کا شکار ہو جائے۔ جنگ یمامہ (12 ھ) کے بارے میں خبر آئی کہ کثرت سے مسلمان قتل ہوگئے ہیں۔ حضرت عمر ، خلیفہ اول ابو بکر صدیق کے پاس آئے اور کہا کہ اب قرآن کی حفاظت کی اس کے سوا کوئی صورت نہیں ہے کہ اس کو تحریری طور پر باضابطہ مدون کر دیا جائے۔ اس موقع پر روایت میں یہ الفاظ آتے ہیں: فَلَمَّا قُتِلَ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ خَشِيَ عُمَرُ أَنْ يَذْهَبَ الْقُرْآنُ، فَجَاءَ إِلَى أَبِي بَكْرِ...(المشيخة البغدادية للآموی: 23) - جب سالم، مولیٰ ابو حذیفہ قتل ہوئے تو عمر کو خطرہ پیدا ہوا کہ قرآن ضائع نہ ہو جائے، وہ ابو بکر کے پاس آئے۔ یمامہ کی جنگ میں تقریباً 700 صحابہ قتل ہوئے تھے۔ مگر حضرت عمر کو "ذهاب قرآن" (قرآن کے ضائع ہونے کا خطرہ حضرت سالم کی موت کی وجہ سے ہوا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ ان چند مخصوص صحابہ میں سے تھے جن کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم قرآن کی اجازت دی تھی۔ جیسا کہ ثابت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کے اترتے ہی اس کو فوراً لکھوا دیا کرتے تھے۔ کتابت کا اہتمام اتنا زیادہ تھا کہ سورہ النساء، آیت 195 اتر چکی تھی، بعد کو غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ ( جن کو کوئی عذر نہیں) اس میں بطور اضافہ اترا۔ امام مالک کے الفاظ میں یہ "حرف واحد" (تاریخ دمشق لابن عساکر، جلد 36، صفحہ 312) بھی آپ نے اسی وقت کاتب کو بلا کر لکھوایا:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page