Urdu book · عظمتِ صحابہ

میں کو حذف کرنا

Urdu book, p. 24

By Maulana Wahiduddin Khan

میں کو حذف کرنا غزوہ بدر ۲ ھ میں پیش آیا۔ اچانک صورت حال کے تحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکین مکہ کے مقابلے کے لیے نکلنا پڑا۔ یہ بڑا نازک لمحہ تھا۔ کیونکہ اس مقابلہ کے لیے مہاجرین کی تعداد ناکافی تھی، انصار کا معاملہ یہ تھا کہ اپنی بیعت کی رو سے وہ صرف مدینہ کے اندر آپ کی حمایت کے پابند تھے۔ مدینہ سے باہر نکل کر دشمنوں سے مقابلہ کرنا نان کے واجبات بیعت میں شامل نہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو جمع کر کے فرمایا کہ اے لوگو، مجھے مشورہ دو۔ اس کے جواب میں مہاجرین میں سے کچھ لوگوں نے اٹھ کر آپ کو اپنی پوری حمایت کا یقین دلایا۔ آپ نے کئی بار کہا کہ اے لوگو مجھے مشورہ دو، اور ہر بار مہاجرین اٹھ کر جواب دیتے رہے۔ آخر انصار کو احساس ہوا کہ غالباً آپ ہمارا خیال جاننا چاہتے ہیں۔ یہ احساس ہوتے ہی فوراً اُن کے سردار اُٹھے اور کہا کہ اے خدا کے رسول، شاید آپ کا اشارہ ہماری طرف ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں۔ انھوں نے کہا کہ اب ہم آپ کے ہاتھ پر بیعت کر چکے ہیں۔ یہ ناممکن ہے کہ ہم آپ کو اکیلا چھوڑ دیں۔ اے خدا کے رسول، آپ جو چاہتے ہیں، اس کو کر گزرئے۔ ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔ خدا کی قسم اگر آپ یہاں سے روانہ ہوں اور چلتے چلتے سمندر میں داخل ہو جائیں تو ہم بھی آپ کے ساتھ سمندر میں داخل ہو جائیں گے۔ ہم میں سے کوئی شخص پیچھے نہ رہے گا (البدایہ والنہایہ ۴۳/۳ - ۲۶۲) اسی طرح صلح حدیبیہ (۶ھ) کے بعد جب امن ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارادہ فرمایا کہ اطراف عرب کے حاکموں اور بادشاہوں کو دعوتی خطوط روانہ کریں۔ آپ نے صحابہ کو جمع کیا اور فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ تم میں سے کچھ لوگوں کو دعوتی پیغام کے ساتھ عجم کی بادشاہوں کی طرف بھیجوں۔ پس تم لوگ میرے ساتھ اختلاف نہ کرو جس طرح بنو اسرائیل نے عیسیٰ بن مریم کے ساتھ اختلاف کیا۔ صحابہ نے کہا کہ اے خدا کے رسول، ہم آپ سے کسی معاملہ میں کبھی اختلاف نہ کریں گے۔ آپ ہم کو حکم دیجئے اور ہم کو جہاں چاہے وہاں بھیجے (البدایہ والنہایہ ۴/ ۲۶۸) یہ واقعات اصحاب رسول کی ایک نہایت اہم خصوصیت کو بتا رہے ہیں۔ یہ خصوصیت ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page