میں کو حذف کرنا
Urdu book, p. 25
By Maulana Wahiduddin Khan
”میں “ کو حذف کرکے کسی شخص کا ساتھ دینا۔ ساری تاریخ کا یہ تجربہ ہے کہ لوگ ابتدائی جذبے کے تحت کسی کا ساتھ دینے پر آمادہ ہو جاتے ہیں مگر جب ناموافق باتیں پیش آتی ہیں تو وہ فوراً اختلاف کر کے الگ ہو جاتے ہیں۔ مثلاً اصحاب رسول (انصار) بدر کی لڑائی کے موقع پر کہہ سکتے تھے کہ ہم نے داخلی دفاع کا عہد کیا ہے، ہم نے خارجی مقابلہ کا آپ سے عہد نہیں کیا (البدایہ والنہایہ ۴۶۲/۳) مگر انھوں نے اس پہلو کو نظر انداز کر کے آپ کا ساتھ دیا۔ جب کہ یہ ساتھ دینا بظاہر موت کے غار میں کودنے کے ہم معنی تھا۔ کیونکہ دشمن کے پاس ایک ہزار افراد کی طاقتور اور مسلح فوج تھی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ۳۱۳ آدمیوں کی نسبتاً کمزور جماعت۔ اسی طرح حکمرانوں کے نام دعوتی وفود بھیجنے کے سلسلہ میں وہ یہ کہہ سکتے تھے کہ ابھی تو عرب میں بھی اسلام پوری طرح نہیں پھیلا۔ ابھی داخلی استحکام کے اعتبار سے ہمارے سامنے بے شمار مسائل ہیں۔ ایسی حالت میں بیرون ملک وفود بھیجنے کا کیا موقع ہے۔ مگر اصحاب رسول نے اس قسم کے ہر خیال کو اپنے ذہن سے نکال دیا۔ انھوں نے عذر کو عذر نہیں بنایا۔ انھوں نے ” میں “ کو حذف کر کے آپ کا ساتھ دیا۔ انھوں نے اجتماعی مفاد کے لیے انفرادی تقاضوں کو نظر انداز کر دیا۔ اختلاف اور شکایت کے ہر معاملہ کو اللہ کے حوالے کر کے وہ اس پر راضی ہو گئے کہ وہ رسول خدا کی قیادت کے تحت اسلام کی خدمت کرتے رہیں، یہاں تک کہ اسی حال میں مر جائیں۔ ایک مفکر نے کہا کہ اگر تمہارے پاس بہترین عذر ہے تب بھی تم اس کو استعمال نہ کرو : If you have a good excuse don't use it. مغربی مفکر نے یہ بات بطور آئیڈیل کہی تھی۔ مگر اس آئیڈیل کو پہلی بار جن لوگوں نے عملی واقعہ بنایا وہ اصحاب رسول تھے۔ انھوں نے اختلاف کو نظر انداز کر کے اتحاد کیا۔ انھوں نے شکایتوں کو بھلا کر ساتھ دیا۔ انھوں نے اپنی ذات کو حذف کرکے اپنے آپ کو اجتماعیت سے وابستہ کیا۔ وہ اپنے جذبات کو پا کر مقصد کی تکمیل میں لگے رہے۔ انھوں نے پانے کی امید کے بغیر دیا۔ انھوں نے کریڈٹ لینے کے خیال کو اپنے ذہن سے نکال کر قربانیاں دیں۔ عام لوگ جس حد پر رک جاتے ہیں ان حدوں پر رکے بغیر وہ آگے بڑھ گئے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader