Urdu book · عظمتِ صحابہ

اصحاب رسول

Urdu book, p. 26

By Maulana Wahiduddin Khan

اصحاب رسول خالد بن ولید اور عبد الرحمن بن عوف کے درمیان کسی بات پر اختلاف پیدا ہوا۔ اس موقع پر حضرت خالد کی زبان سے حضرت عبد الرحمن بن عوف کے لیے کچھ سخت کلمات نکل گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو فرمایا : لا تسبوا اصحابی ، لا تسبوا اصحابی میرے اصحاب کو برا نہ کہو، میرے اصحاب کو برا فوالذي نفسى بیدہ لوان أحدکم نہ کہو، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان أنفق مثل أحد ذهبا ما بلغ ہے، اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر مداحدهم ولا نصيفه سونا بھی خرچ کر دے تو وہ ان کے ایک مد یا اس (مسلم ، باب تحريم سب الصحابه) کے نصف کے برابر بھی نہیں پہنچے گا۔ صحابہ کرام کی وہ کیا خاص صفت تھی جس کی بنا پر انھیں یہ امتیازی مقام ملا۔ قرآن کے لفظوں میں وہ تھی مشکل گھڑیوں میں اتباع کرنا (التوبہ ، ۱۱) فتح کا دور آنے سے پہلے قربانیاں پیش کرنا (الحديد ۱۰) آج پیغمبر اسلام کی رسالت ایک ثابت شدہ رسالت ہے۔ آپ کا نام بلند ترین عظمت کا نشان بن چکا ہے۔ آج آپ کے نام پر اٹھنے والے کو ہر قسم کی عزت اور ہر قسم کے مادی فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ ایسا آدمی فوراً قوم کے درمیان قائد کا مقام پالیتا ہے۔ مگر جس وقت صحابہ کرام نے آپ کا ساتھ دیا، اس وقت یہ تمام امکانات ابھی مستقبل کے پردہ میں چھپے ہوئے تھے۔ وہ ابھی واقعہ بن کر لوگوں کے سامنے نہیں آئے تھے۔ صحابہ کرام کا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے حال کے پیغمبر کو اس کے مستقبل کی عظمتوں کے ساتھ دیکھا۔ انھوں نے بظاہر ہر ایک عام انسان کو اس کے پیغمبرانہ جوہر کے ساتھ دریافت کیا۔ انھوں نے اس وقت پیغمبر کا ساتھ دیا جب کہ پیغمبر کا ساتھ دینے کا مطلب پوری قوم میں نکو بن جانا تھا۔ جب پیغمبر کی حمایت کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ آدمی اپنی قوم اور اپنی برادری کی حمایت سے محروم ہو جائے ۔ صحابہ کرام کا ایمان ایک دریافت تھا۔ آج کے مسلمانوں کا ایمان ایک قومی تقلید ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page