نہیں میں ہے کو دیکھنا
Urdu book, p. 28
By Maulana Wahiduddin Khan
نہیں میں ہے کو دیکھنا خلیفہ دوم عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ۲۱ ھ میں ایران فتح ہوا۔ اس وقت ایران کا بادشاہ یزدگرد اور اس کا سپہ سالار رستم تھا۔ سعد بن ابی وقاص کی قیادت میں جو مسلم لشکر ایران میں داخل ہوا، اس کی مجموعی تعداد ۲۰ ہزار سے کچھ زیادہ تھی، جب کہ رستم کی فوج کی تعداد تقریبا ایک لاکھ تھی۔ اس کے با وجود اہل اسلام کی فتوحات کی خبریں سن کر ایرانی حکمران خائف تھے۔ انھوں نے سعد بن ابی وقاص کو پیغام بھیجا کہ بات چیت کے لیے اپنا سفیر روانہ کریں۔ اس سلسلہ میں صحابہ کرام کے کئی وفد مدائن گئے اور رستم اور یزدگرد سے بات کی۔ ان لوگوں نے انتہائی بے خوفی کا مظاہرہ کیا۔ مثلاً رعی بن عامر ایرانی دربار میں داخل ہوئے تو وہ گھوڑے پر بیٹھے ہوئے تخت تک چلے گئے ۔ انھوں نے اپنا نیزہ قالین میں گاڑ کر اس سے اپنے گھوڑے کو باندھ دیا۔ انھوں نے ایرانی حکمرانوں سے نہایت بے باکی کے ساتھ گفتگو کی جس کی تفصیل تاریخ کی کتابوں میں موجود ہے۔ آخری مرحلہ میں یہ واقعہ پیش آیا کہ ایرانی شہنشاہ یزد گرد ان کی باتیں سن کر بگڑ گیا۔ اس نے غصہ ہو کر مسلم وفد سے کہا کہ اگر یہ دستور نہ ہوتا کہ سفیر قتل نہ کیے جائیں تو میں تم لوگوں کو قتل کر دیتا۔ تمہارے لیے میرے پاس کچھ نہیں۔ تم اپنے سردار (سعد بن ابی وقاص) کے پاس جاؤ اور ان کو بتا دو کہ میں رستم کو ایک بہت بڑی فوج کے ساتھ تمہاری طرف بھیج رہا ہوں جو تم لوگوں کو قادسیہ کی خندق میں دفن کر دے گا۔ پھر یزدگرد نے پوچھا کہ تمہارے وفد کا سب سے معزز شخص کون ہے۔ تاکہ میں اس کے سر پر مٹی کا ٹوکرا رکھ کر اس کو یہاں سے واپس کروں۔ لوگ اس سوال پر چپ رہے۔ آخر وفد کے ایک عام رکن عاصم بن عمر کھڑے ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ تم جس کو چاہتے ہو وہ شخص میں ہوں۔ تم مٹی میرے سر پر رکھ دو۔ یزد گرد نے لوگوں سے پوچھا۔ انھوں نے کہا کہ ہاں وہ ہمارے معزز شخص ہیں۔ اس کے بعد یزدگرد نے مٹی سے بھرا ہوا ایک ٹوکرا منگایا اور اس کو ان کے سر پر رکھ دیا۔ اور حکم دیا کہ ان لوگوں کو یہاں سے نکال دیا جائے ۔ عاصم بن عمر و مٹی کا ٹوکرا لیے ہوئے محل کے باہر آئے۔ اس کو انھوں نے اپنی سواری پر رکھا اور تیزی سے روانہ ہو کر وہاں پہنچ گئے جہاں سعد بن ابی وقاص ٹھہرے ہوئے تھے۔ انھوں نے خیمہ میں داخل ہو کر مٹی کا ٹوکرا سردار کے سامنے رکھ دیا اور ان کو واقعہ بتایا۔ راوی کہتے ہیں:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader