Urdu book · عظمتِ صحابہ

نہیں میں ہے کو دیکھنا

Urdu book, p. 29

By Maulana Wahiduddin Khan

فقال: أبشروا فقد والله اعطانا الله سعد بن ابی وقاص نے کہا کہ تم کو خوش خبری ہو، خدا کی اقالید ملكهم وتفاءلوا بذلك قسم، اللہ نے ہمیں ان کے اقتدار کی کنجیاں دیدیں۔ اخذ بلادهم۔ ثم لم يزل أمر الصحابة اور مٹی سے انھوں نے فال لیا کہ ان کا ملک ہمیں يزداد فی كل يوم عدواً وشرفاً حاصل ہوگا۔ اس کے بعد صحابہ ہر روز بلندی اور شرف ورفعة وينحط امر الفرس سفلاً اور رفعت میں بڑھتے رہے اور ایرانی پستی اور وذلا وهنا ذلت اور ناکامی میں گرتے چلے گئے۔ مسلم وفد کو محل سے نکال دینے کے بعد یزدگرد نے یہ واقعہ رستم کو بتایا۔ اور مٹی کا ٹوکرا سر پر رکھنے کے معاملے کو ان کی حماقت قرار دیا۔ رستم نے کہا کہ نہیں، وہ آدمی احمق نہیں تھا، خدا کی قسم وہ لوگ تو ہمارے ملک کی کنجیاں اٹھالے گئے (والله ذهبوا بمفاتيح ارضنا) البدایہ والنہایہ، ۴/۳۳-۴۴ سوچنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک ہے حالات میں گھر کر سوچنا، دوسرا ہے حالات سے اوپر اٹھ کر سوچنا۔ ایک ہے نفرت اور محبت جیسے جذبات کے تحت رائے قائم کرنا، دوسرے ہے نفرت اور محبت جیسے جذبات سے بلند ہو کر رائے قائم کرنا۔ عام طور پر لوگ حالات سے متاثر ہو کر سوچتے ہیں، وہ فوری جذبات کے زیر اثر اپنی رائے قائم کرتے ہیں۔ مگر صحابہ کرام ان چیزوں سے اوپر تھے ۔ وہ حالات اور جذباتی محرکات سے اوپر اٹھ کر خود اپنے فیصلہ کے تحت یہ طے کرتے تھے کہ انھیں کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے۔ صحابہ کی اس صفت نے ان کو بے پناہ حد تک طاقت ور بنا دیا تھا۔ انھیں مٹی دی جاتی اور وہ اس کو فتح کے تاج کی طرح قبول کر لیتے تھے۔ جس واقعہ کو لوگ بے عزتی کے ہم معنی سمجھ لیتے ہیں، اس سے وہ عزت کا مفہوم نکال لیتے تھے۔ جو تجربہ لوگوں کو جھنجلاہٹ میں مبتلا کر دیتا ہے، اس سے وہ اپنے لیے یقین کی غذا حاصل کر لیتے تھے۔ صحابہ انسانی تاریخ کے وہ انوکھے افراد تھے جو عصر میں یُسر کا راز پا لیتے تھے۔ جو ناکامی سے کامیابی کو نچوڑتے تھے۔ جو شکست کے واقعہ کو فتح کے واقعہ میں تبدیل کر دیتے تھے۔ جو مایوسی کی تاریکی میں امید کی روشنی دیکھ لیتے تھے۔ رکھنے والا ان کے سر پر مٹی کا ٹوکرا رکھتا تھا، اور وہ سمجھتے کہ اُس نے خود ہی اپنا ملک ہمارے حوالے کر دیا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page