Urdu book · عظمتِ صحابہ

بلند نظری

Urdu book, p. 30

By Maulana Wahiduddin Khan

بلند نظری ۱۷ھ کے آخر میں شام اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں طاعون کی وبا پھیلی۔ ۱۸ھ میں یہ وبا نہایت شدید ہوگئی۔ اس وقت شام کی مسلم فوجوں کے سپہ سالار ابو عبیدہ بن الجراحؓ تھے۔ ان کی پالیسی یہ تھی کہ مسلمان جہاں ہیں وہیں ٹھہرے رہیں۔ حضرت ابو عبیدہ اس مرض میں مبتلا ہوئے اور اسی میں ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کے بعد معاذ بن جبلؓ اس علاقہ کی مسلم فوجوں کے سپہ سالار مقرر ہوئے۔ ان کی پالیسی بھی وہی رہی جو حضرت ابو عبیدہ کی پالیسی تھی۔ حضرت معاذ بن جبل اس مرض میں مبتلا ہوئے اور ان کا بھی اسی مرض میں انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد عمرو بن العاصؓ اس علاقہ کی مسلم افواج کے سپہ سالار مقرر ہوئے۔ انھوں نے اپنی پالیسی بدلی۔ انھوں نے فیصلہ کیا کہ ہم اپنی موجودہ جگہ کو چھوڑ دیں۔ مورخ ابن کثیر لکھتے ہیں : فلما مات استخلف على الناس عمرو بن العاص فقام فيهم خطيبا فقال - ايها الناس، إن هذا الوجع اذا وقع فانما يشتعل اشتعال النار فتحصنوا منه في الجبال - فقال ابو وائل الهذلي - كذبت والله - لقد صحبت رسول الله صلى الله عليه وسلم وانت شر من حماري هذا - فقال والله ما أرد عليك ما تقول ( البداية والنهاية ٧٩/٧ ) پھر جب معاذ بن جبلؓ کی وفات ہوگئی تو عمرو بن العاص لوگوں کے اوپر سردار مقرر ہوئے۔ انھوں نے کھڑے ہو کر لوگوں کے درمیان تقریر کی۔ انھوں نے کہا کہ اے لوگو، یہ بیماری جب آتی ہے تو وہ آگ کی طرح بھڑک اٹھتی ہے۔ پس تم لوگ پہاڑوں میں اپنے آپ کو اس سے محفوظ کر لو۔ یہ سن کر ابو وائل ھذلیؓ نے کہا کہ خدا کی قسم تم نے جھوٹ کہا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت پائی ہے۔ اور تم میرے اس گدھے سے بھی زیادہ برے ہو۔ عمرو بن العاص نے کہا کہ خدا کی قسم، تم جو کہہ رہے ہو اس کا میں کوئی جواب نہیں دوں گا۔ یہ ایک مثال ہے جو بتاتی ہے کہ صحابہ کرام کے درمیان کتنی سخت تنقیدوں کا رواج تھا۔ ان کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page