Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 99

By Maulana Wahiduddin Khan

میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی سے کام لیتا ہے۔ ایسے ہر معاملہ میں اسلام کا حکم یہ ہے کہ پوری اجرت دو، اور کام ختم ہونے کے بعد فورا اسے ادا کرو۔ کام کروانے کے بعد مزدور سے یہ کہنا کہ اگلے دن آ کر اجرت لے لینا، انتہائی غیر انسانی فعل ہے ۔ اور ایسے پست فعل سے اسلام میں نہایت شدت کے ساتھ منع کیا گیا ہے۔ کام کروانے والے کی ضرورت اگر یہ ہے کہ اس کا کام ہو جائے تو کام کرنے والے کی ضرورت یہ ہے کہ اس کی محنت کا معاوضہ اسے بروقت مل جائے۔ یہ ایک دو طرفہ تقاضا ہے۔ اور کام کرنے والے نے جب کام انجام دے دیا تو اب دوسرے شخص پر لازم ہو گیا کہ وہ اس کا مقرر معاوضہ ادا کرنے میں کسی قسم کی کوئی قابل شکایت بات نہ کرے۔ جہاں طے شدہ مزدوری کا معاملہ نہ ہو وہاں بھی اسلام کا تقاضا ہے کہ کسی نہ کسی صورت میں اس کا بدلہ پورا کیا جائے۔ اگر مادی بدلہ کا موقع نہ ہو تو اس کا شکریہ ادا کیا جائے۔ کھلے دل سے اس کی کارگزاری کا اعتراف کیا جائے ۔ اچھے الفاظ کے ساتھ لوگوں کے سامنے اس کا ذکر کیا جائے۔ اس کے حق میں اللہ تعالیٰ سے نیک دعا کی جائے۔ محنت کا فورا معاوضہ ادا کرنے سے سماج میں باہمی اعتماد بڑھتا ہے، اور اگر اس کے برعکس عمل کیا جائے تو پورا سماج بے اعتمادی اور بدگمانی کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔ تیسیر پسندی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدنی زندگی کا ایک واقعہ ہے۔ ایک دن آپ مدینہ کی مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے، کچھ اور صحابہ بھی وہاں موجود تھے۔ اسی دوران ایک اعرابی آیا۔ وہ مسجد کے اندر پیشاب کرنے لگا۔ لوگ اس کو مارنے کے لیے دوڑے ۔ رسول اللہ صلی اللہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page