دینِ انسانیت
Urdu book, p. 98
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان ایک ایسی مخلوق ہے جس کو خصوصی طور پر حساسیت کی صفت عطا ہوئی ہے۔ اس لیے فطری طور پر انسان صفائی ستھرائی کو پسند کرتا ہے۔ اسلام چونکہ دین فطرت ہے، اس لیے اس میں اس بات کی بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے کہ انسان ہمیشہ صاف ستھرا رہے ۔ اس کا جسم ، اس کا لباس ، اس کا گھر ، اس کی ہر چیز میں ستھرا پن دکھائی دے۔ صفائی ستھرائی کی اسی اہمیت کی بنا پر اصحاب رسول میں روزانہ غسل کا عام رواج تھا۔ موطا امام مالک (کتاب الطہارة) میں حضرت عبد اللہ بن عمر کے صاحبزادہ کی روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میرے باپ (عبد اللہ بن عمر) ہر وضو سے پہلے غسل کرتے تھے۔ اس طرح وہ روزانہ پانچ بار نہاتے تھے۔ خلیفہ سوم حضرت عثمان بن عفان کے بارے میں روایت ہے کہ وہ ہر دن ایک بار نہاتے تھے: کَانَ عُثْمَانُ يَغْتَسِلُ كُلَّ يَوْمٍ مَرَّةً (مسند احمد، حدیث نمبر 484)۔ یعنی، جسم اور روح کی صفائی اسلام کے تقاضوں میں سے ایک لازمی تقاضا ہے۔ حق کی ادائیگی البخاری میں روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تین شخص کے خلاف قیامت میں مدعی بنوں گا۔ ان میں سے ایک وہ شخص ہے جس نے آدمی کو اپنے یہاں مزدور رکھا اورا س سے پورا کام لیا مگر اس نے اس کی مزدوری نہیں دی: رَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَاسْتَوْفَى مِنْهُ وَلَمْ يُعْطِ أَجْرَهُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2227)۔ ابن ماجہ نے حضرت عبد اللہ بن عمر سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أَعْطُوا الأَجِيرَ أَجْرَهُ، قَبْلَ أَنْ يَجِفَّ عَرَقُهُ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 2443)۔ یعنی، مزدور کو اس کی مزدوری دو، اس سے پہلے کہ اس کا پسینہ خشک ہو موجودہ دنیا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader