مشرک کا حکم
Urdu book, p. 101
By Maulana Wahiduddin Khan
مشرک کا حکم قرآن میں ہے کہ خنزیر کا گوشت ناپاک ہے : أَوْ لَحْمَ خِنْزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ (6:145) ۔ اسی طرح قرآن میں ہے کہ مشرک ناپاک ہیں (انما المشرکون نجس) اس لفظی اشتراک کی بنا پر کچھ لوگوں نے سمجھ لیا کہ جس طرح خنزیر باعتبار جسم ناپاک ہے، اسی طرح مشرک بھی باعتبار جسم ناپاک ہے۔ چنانچہ مشرک کا برتن، کھانا، کپڑا اور اس کی تمام چھوٹی ہوئی چیزوں کو ناپاک سمجھ لیا گیا۔ حتیٰ کہ کہا گیا کہ کوئی مسلمان اگر مشرک سے مصافحہ کرلے تو اس کے بعد وہ اپنے ہاتھ کو دھوئے اور وضو کر کے اپنے کو پاک کرے : قَالَ أَشْعَثُ عَنْ الْحَسَنِ: مَنْ صَافَحَهُمْ فَلْيَتَوَضَّأْ (تفسیر ابن کثیر، جلد 4، صفحہ 272) ۔ یہ صحیح نہیں۔ اگرچہ مذکورہ دونوں آیتوں میں بظاہر یکساں لفظ ہے، مگر دونوں کا مطلب یکساں نہیں۔ ”خنزیر نجس ہے “ کا مطلب یہ ہے کہ خنزیر کا جسم نجس ہے۔ اس کے برعکس ” مشرک نجس ہے“ کا مطلب یہ ہے کہ مشرک کا عقیدہ نجس ہے۔ جہاں تک مشرک کے بدن کی نجاست کا تعلق ہے، جمہور کی رائے یہ ہے کہ مشرک کا بدن اور اس کا وجود نجس نہیں۔ اسی بنا پر اہل کتاب کے کھانے کو جائز ٹھہرایا گیا ہے : وَأَمَّا نَجَاسَةُ بَدَنِهِ فَالْجُمْهُورُ عَلَى أَنَّهُ لَيْسَ بِنَجِسِ الْبَدَنِ وَالذَّاتِ، لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَحَلَّ طَعَامَ أَهْلِ الْكِتَابِ (تفسیر ابن کثیر، جلد 4، صفحہ 271)۔ عبدالرحمن الجزبری لکھتے ہیں: اِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ (9:28) ۔ فَالْمُرَادُ بِهِ النَّجَاسَةُ الْمَعْنَوِيَّةُ الَّتِي حَكَمَ بِهَا الشَّارِعُ، وَلَيْسَ الْمُرَادُ أَنَّ ذَاتَ الْمُشْرِكِ نَجَسَةٌ كَنَجَاسَةِ الْخِنْزِيرِ (الفقه على المذاهب الاربعہ، جلد 1، صفحہ 9) ۔ اللہ تعالیٰ کا قول کہ مشرکین نجس ہیں، اس سے مراد معنوی نجاست ہے جس کا حکم شارع نے بیان کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مشرک کا وجود ناپاک ہے جس طرح خنزیر کا وجود ناپاک ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader