دینِ انسانیت
Urdu book, p. 102
By Maulana Wahiduddin Khan
حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے تمام مسائل مسلمانوں میں دعوتی ذہن ختم ہونے کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ دوسری قوموں کو مدعو سمجھنا انھیں قابل التفات بناتا ہے۔ مگر جب د دوسری قومیں مدعو نہ سمجھی جائیں تو وہ قابل اجتناب بن کر رہ جائیں گی۔ مجرم کے ساتھ بھی یروی ابو داؤد عَن أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ الله صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ، فَقَالَ: اضْرِبُوهُ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَمِنَّا الضَّارِبُ بِيَدِهِ، وَالصَّارِبُ بِنَعْلِهِ، وَالصَّارِبُ بِثَوْبِهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: أَخْزَاكَ اللهُ، فَقَالَ رَسُولُ الله صلى الله عليه وسلم: لَا تَقُولُوا هَكَذَا، لَا تُعِينُوا عَلَيْهِ الشَّيْطَانَ۔ یعنی، حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے شراب پی تھی۔ آپ نے فرمایا کہ اس کو مارو ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ ہم میں سے کسی نے اپنے ہاتھ سے مارنا شروع کیا، کسی نے اپنے جوتے سے اور کسی نے اپنے کپڑے سے۔ جب مار چکے تو لوگوں میں سے کسی شخص نے کہا کہ خدا تجھے رسوا کرے ۔ رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ایسا مت کہو۔ اور اس کے اوپر شیطان کی مدد نہ کرو ( سنن ابوداؤد ، حدیث نمبر 6128)۔ اسلام میں مجرم کو جو سزا دی جاتی ہے وہ نفرت کے جذبہ کے تحت نہیں دی جاتی بلکہ صرف حدود اللہ کی ادائیگی کے لیے دی جاتی ہے۔ سزا دینے والے کے اندر اگر مجرم کے مقابلہ میں اپنی بڑائی کا احساس پیدا ہو جائے تو یہ بھی اس کے لیے ایک جرم ہوگا۔ کسی کو سزا دینے کا اختیار صرف اس شخص کو ہے جو نفرت کے جذبات سے بلند ہو کر اسے سزا دے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader