Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 103

By Maulana Wahiduddin Khan

مجرم پر حد جاری کرنے کے بعد اسے برا بھلا کہنا خدا کی سزا پر انسانی سزا کا اضافہ ہے جس کا حق کسی کو بھی نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ ارشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ حد جاری کرتے ہوئے بھی آپ کو مجرم کے ساتھ بے پناہ ہمدردی تھی۔ آپ نے یہ نہیں چاہا کہ لوگوں کے برا بھلا کہنے سے مجرم کے اندر ردعمل پیدا ہوا اور وہ ندامت اور اصلاح کی طرف رغبت کرنے کے بجائے سرکشی اور بغاوت کی طرف مائل ہوجائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جن کو خدا کی طرف سے یہ اجازت نامہ حاصل ہوتا ہے کہ وہ خدا کے بندوں کے اوپر داروغہ بن کر کھڑے ہوں اور ان کے اوپر خدا کی مقرر کی ہوئی سزائیں نافذ کریں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی انسانوں سے محبت اتنی زیادہ بڑھی ہوئی ہو کہ وہ مجرم کے لیے بھی باقی رہے۔ وہ جرم کے ارتکاب کے باوجود ایک شخص سے نفرت نہ کرسکیں۔ وہ خیر خواہی کی حد تک ہر انسان سے دل چسپی رکھنے والے ہوں۔ دو طریقے ایک دیہاتی آدمی مدینہ آیا۔ وہ مسجد نبوی میں داخل ہوا جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ موجود تھے۔ وہ مسجد کے اندر کھڑا ہو کر پیشاب کرنے لگا۔ لوگوں نے اس کو تنبیہ کرنا چاہا مگر آپ نے منع فرما دیا۔ آپ نے کہا کہ دیہاتی کو چھوڑ دو اور ایک ڈول پانی لا کر وہاں بہا دو۔ چنانچہ لوگوں نے ایسا ہی کیا۔ (بخاری، مسلم، نسائی، ترمذی، ابوداؤد، مؤطا)۔ (Sahih al-Bukhari: 220, Sunan al-Nasai: 56, Sunan al-Tirmidhi: 147, Sunan Abi Dawud: 380)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page