Urdu book · دینِ انسانیت

دعوہ کلچر

Urdu book, p. 105

By Maulana Wahiduddin Khan

دعوہ کلچر اسلامی کلچر حقیقتاً دعوہ کلچر ہے۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے اسلام کو گن کلچر کے ہم معنی بنا دیا ہے۔ یہ بلاشبہ سب سے بڑا جرم ہے جو موجودہ زمانہ کے کچھ نام نہاد انقلابی مفکرین کی رہنمائی میں مسلمانوں کا ایک طبقہ انجام دے رہا ہے۔ اللہ چاہتا ہے کہ مسلمان اقوامِ عالم کے اوپر رحمت کی بارش برسائیں۔ مگر وہ اقوامِ عالم کے اوپر آگ کی بارش برسانے والے بنے ہوئے ہیں۔ اس قسم کا عمل خواہ کتنا ہی زیادہ اسلام کے نام پر کیا جائے وہ بلاشبہ باطل ہے، وہ خدا کے منصوبہ کے سراسر خلاف ہے۔ یہ دنیا کیا ہے۔ دنیا جنتی انسانوں کی انتخاب گاہ ہے۔ قیامت سے پہلے کے مرحلہ میں جنتی انسانوں کا انتخاب کیا جارہا ہے، قیامت کے بعد کے مرحلہ میں جنتی انسانوں کو جنت کی ابدی آرامگاہوں میں بسایا جائے گا۔ یہ حقیقت قرآن میں آخری حد تک واضح ہے، بشرطیکہ آدمی سنجیدگی کے ساتھ قرآن پر غور کرے۔ قرآن بتاتا ہے کہ زمین و آسمان اس لیے بنائے گئے ہیں تا کہ اولوالالباب اس کو دیکھ کر آیاتِ خداوندی کا ادراک کر سکیں (آل عمران، 190-3:191) انسان کو اس لیے تخلیق کیا گیا ہے تا کہ امتحانی حالات میں ڈال کر یہ دیکھا جائے کہ ان میں سے کون ہے جو جنت کی نفیس فضاؤں میں بسائے جانے کے لائق ہے (الملک، 67:2) اللہ کے پیغمبر اس لیے بھیجے گئے تا کہ وہ انسانوں کو ہدایت کا وہ راستہ بتائیں جو انھیں جنت میں لے جانے والا ہے (ابراہیم، 4: 14)۔ زمین و آسمان کی کائنات اس لیے پھیلائی گئی ہے کہ انسان اس کو دیکھ کر خدا کی بے پناہ کبریائی کو محسوس کرے، وہ خدا کے عظمت و جلال کے احساس سے کانپ اٹھے۔ دنیا میں رنگ اور خوشبو اور راحت اور معنویت کا سیلاب اس لیے بہایا گیا ہے کہ آدمی ان کے اندر خدا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page