Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 106

By Maulana Wahiduddin Khan

کی عنایتوں کو دیکھے، وہ ہمہ تن خدا کی رحمتوں کا طلب گار بن جائے۔ حق کے داعی اس لیے کھڑے کیے گئے ہیں تا کہ ان کا اعتراف کر کے آدمی صاحب معرفت ہونے کا ثبوت دے، وہ حق کی حمایت کر کے خدا کے خصوصی بندوں میں شامل ہو جائے۔ اس مزاج کے تحت جو کلچر بنتا ہے وہ دعوہ کلچر ہوتا ہے نہ کہ گن کلچر۔ ایک دُعا یہ دنیا حادثات کی دنیا ہے۔ یہاں یکساں حالات کا برقرار رہنا ممکن نہیں۔ یہاں عین فطرت کے قانون اور عین تخلیقی نظام کے تحت ایسا ہوتا ہے کہ بار بار حالات میں تبدیلیاں ہوتی ہیں۔ بار بار نقصان سے سابقہ پیش آتا ہے۔ قرآن کے الفاظ میں، یہ نقصان کبھی خوف کی صورت میں پیش آئے گا، کبھی بھوک کی صورت میں، اور کبھی مال اور جان اور فائدہ میں کمی کی صورت میں (البقرہ، 155: 2)۔ ایسی حالت میں ایک انسان وہ ہے جو فریاد و ماتم کرنے لگتا ہے۔ وہ شکایت اور احتجاج کی نفسیات میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ وہ مایوسی کا شکار ہو کر رہ جاتا ہے۔ مگر یہ سچے انسانوں کا طریقہ نہیں۔ یہ ان لوگوں کا طریقہ ہے جو سیدھے راستے سے بھٹک جاتے ہیں۔ ایسے مواقع پر کسی انسان کے لیے صحیح اور سچا طریقہ صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ وہ سارے معاملہ کو مالک کائنات کے اوپر ڈال دے۔ وہ مصیبت کو صبر کا معاملہ بنائے نہ کہ بے صبری کا۔ وہ اس کو وقتی تاثر کے خانہ میں ڈالے نہ کہ مستقل تاثر کے خانہ میں۔ جن لوگوں کے اندر یہ ربانی شخصیت ہو۔ جو سچائی کے راستہ کو پائے ہوئے ہوں ۔ ان پر جب ایسی کوئی آفت آتی کی زبان سے نکل پڑتا ہے کہ ہم اللہ کے لیے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ خدایا، تو ہماری مصیبت میں ہم کو اجر دے۔ تو اس کے بعد ہمارے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page