دینِ انسانیت
Urdu book, p. 108
By Maulana Wahiduddin Khan
محنت کی کمائی ہی دراصل کمائی ہے۔ اس کے بغیر جو حاصل کیا جائے وہ لوٹ ہے۔ محنت کرنے والا اپنی محنت سے جو کچھ حاصل کرتا ہے وہ اس کا جائز حق ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ غلط تدبیروں سے جو کچھ حاصل کیا جائے وہ دراصل دوسروں کا حصہ تھا جس کو ایک شخص نے کسی حق کے بغیر ناجائز طور پر اپنے لیے حاصل کر لیا۔ مذکورہ حدیث میں ”ہاتھ“ کا لفظ علامتی طور پر آیا ہے۔ اس میں جسم اور دماغ دونوں قسم کی محنت شامل ہے۔ سماجی سرگرمیوں میں دونوں قسم کی محنت کی ضرورت ہوتی ہے، اور دونوں طرح کی محنت جائز محنت ہے۔ آدمی خواہ جسمانی محنت سے حاصل کرے یا دماغی محنت سے، دونوں ہی یکساں طور پر اس حدیث کا مصداق ہوں گے۔ البتہ اس کو واقعی محنت ہونا چاہیے۔ محنت کی کمائی سے فرد کے اندر پاکیزہ شخصیت بنتی ہے اور سماج کے اندر پاکیزہ ماحول۔ اس طرح محنت کی کمائی سے انفرادی زندگی اور اجتماعی زندگی دونوں ہی درست ہوتی چلی جاتی ہیں۔ جس سماج میں لوگ محنت کر کے کمائیں وہاں منصفانہ ماحول بنے گا۔ اور جہاں لوگ بلا محنت حاصل کرنا چاہیں وہاں مجرمانہ ماحول۔ مالی تعاون زندگی کی دوڑ میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی آگے چلا جاتا ہے اور کوئی پیچھے رہ جاتا ہے۔ کسی کے پاس ضرورت سے زیادہ مال آ جاتا ہے اور کسی کو ضرورت سے کم ملتا ہے۔ ایسے حالات میں اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کا مالی تعاون کریں۔ انسانی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader