Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 107

By Maulana Wahiduddin Khan

لیے خیر کی صورت پیدا فرمادے: اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ، اَللّٰھُمَّأجُرْنِی فِی مُصِیْبَتِی، وَاَخْلِفْ لِی خَیْراً مِنْھَا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 918)۔ جو بندہ شخصی یا قومی مصیبت پیش آنے کے بعد یہ کہہ پڑے۔ اس کو فوراً ایک نیا سنبھالا مل جائے گا۔ جھٹکا لگنے کے بعد وہ دوبارہ اٹھ کھڑا ہوگا۔ ناامیدی کے تجربہ سے دوچار ہونے کے بعد وہ جلد ہی امید کا نیا تحفہ اپنے لیے پالے گا۔ ایسے لوگ ماضی کو کھو کر دوبارہ اپنے مستقبل کو پا لیتے ہیں، وہ محرومی میں بھی یافت کا سرمایہ حاصل کر لیتے ہیں۔ جہاں بظاہر کہانی ختم ہوتی ہوئی نظر آتی ہو وہاں بھی وہ ایک نیا پیرا گراف معلوم کر لیتے ہیں جس کے ذریعہ وہ اپنی زندگی کی کہانی کو از سر نو شروع کر سکیں۔ محنت کی کمائی قرآن میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں سے فرمایا کہ تم لوگ پاک اور طیب چیزوں سے کھاؤ (23:51) پاکیزہ روزی سے پاکیزہ روح پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے اسلام میں پاکیزہ روزی پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔ البخاری کی ایک روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَا اَکَلَ اَحَدٌ طَعَاماً قَطُّ، خَیْرًا مِّنْ اَنْ یَّأکُلَ مِنْ عَمَلِ یَدِهِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2072)۔ یعنی کسی آدمی کی سب سے زیادہ بہتر روزی یہ ہے کہ وہ اپنے ہاتھ کی محنت کا کھانا کھائے۔ مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ سب سے زیادہ پاکیزہ کمائی کون سی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ: قِیْلَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، اَیُّ الْکَسْبِ اَطْیَبُ؟ قَالَ: عَمَلُ الرَّجُلِ بِیَدِهِ (مسند احمد، حدیث نمبر 1765)۔ یعنی، وہ جو آدمی نے اپنے ہاتھ سے محنت کر کے کمایا ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page