Urdu book · دینِ انسانیت

انسانیت عامہ

Urdu book, p. 110

By Maulana Wahiduddin Khan

انسانیت عامہ اسلام کے مطابق، پوری انسانیت خدا کا ایک کنبہ ہے۔ بیہقی کی ایک روایت ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمام انسان خدا کی عیال کی مانند ہیں۔ اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ انسان وہ ہے جو اس خدائی عیال کے ساتھ بہترین سلوک کرے :الْخَلْقُ عِيَالُ اللَّهِ، فَأَحَبُّ الْخَلْقِ إِلَى اللَّهِ مَنْ أَحْسَنَ إِلَى عِيَالِهِ (مسند البزار، حدیث نمبر (6947۔ اس بات کو مولانا الطاف حسین حالی نے ایک شعر میں اس طرح کہا ہے: یہ پہلا سبق تھا کتاب ہدیٰ کا کہ ہے ساری مخلوق کنبہ خدا کا زید بن ارقم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے آخری پہر میں اٹھتے تو تہجد کی نماز سے فارغ ہو کر ذکر اور دعا میں مشغول ہوجاتے ۔ اس دوران آپ کی زبان سے یہ الفاظ نکلتے کہ: أَنَّا شَهِيدٌ أَنَّ الْعِبَادَ كُلَّهُمْ إِخْوَةٌ (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر (1508۔ یعنی، اے اللہ، میں گواہی دیتا ہوں کہ سارے بندے آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ تہجد کی نماز کا حکم مکہ میں اترا تھا۔ اس طرح آپ کا یہ معمول کی دور ہی میں شروع ہو گیا تھا۔ حدیث کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ تہجد کے بعد آپ مختلف دعائیں پڑھتے تھے۔ تاہم مذکورہ دعا جس میں اخوت انسانی کی شہادت دی گئی ہے، وہ خاص طور پر کی دور سے تعلق رکھتی ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، مکہ کے مشرکین اس زمانہ میں آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو سخت ایذائیں دے رہے تھے۔ اس کے باوجود رات کی تنہائیوں میں آپ ان کو برادرانہ احساسات کے ساتھ یاد فرماتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام جو معیاری انسان دیکھنا چاہتا ہے وہ انسان وہ ہے جس کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page