دینِ انسانیت
Urdu book, p. 112
By Maulana Wahiduddin Khan
حدیث میں کثرت سے ایسی تعلیمات ہیں جن میں تلقین کی گئی ہے کہ تم لوگ ایک دوسرے کے ساتھ بھائی اور بہن جیسا سلوک کرو۔ یہ بات کہیں عام الفاظ میں ہے اور کہیں مومن اور مسلم کے الفاظ میں۔ تاہم اس کا خطاب عمومی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ عام انسانوں کے لیے اس کی حیثیت گویا نصیحت کی ہے اور اہل ایمان کے لیے اس کی حیثیت فریضہ اور حکم کی۔ اسلام کے مطابق، خدا کے تمام بندے آپس میں بھائی بھائی ہیں (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2442)۔ پوری انسانیت ایک وسیع تر خاندان کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایک گھر کے اندر دو بھائیوں میں جو برادرانہ تعلق ہوتا ہے، وہی برادرانہ تعلق وسیع تر دائرہ میں تمام انسانوں سے مطلوب ہے۔ حدیث میں اگر کہیں المسلم اخو المسلم کا لفظ ہے تو وہ بھی گروہی معنی میں نہیں ہے بلکہ اصولی معنی میں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سچے انسان ہمیشہ بھائی بھائی کی طرح رہتے ہیں۔ وسیع تر آدمیت صحیح البخاری میں حدیث کے ایک مجموعہ کا باب یہ ہے: باب رحمۃ الناس والبہائم یعنی انسانوں اور حیوانات کے ساتھ رحمت کا باب۔ اس کی تشریح میں ابن حجر العسقلانی نے لکھا ہے: ای صدور الرحمۃ من لشخص لغیرہ۔ یعنی کسی شخص کی طرف سے اس کے غیر کے لیے مہربانی کا عمل۔ اسلام آدمی کے اندر رحمت و شفقت کا جو جذبہ پیدا کرتا ہے وہ اتنا زیادہ آفاقی ہے کہ اس کا اثر حیوانات اور نباتات کی دنیا تک پہنچتا ہے۔ ایسا انسان ہر ایک کے لیے شفیق بن جاتا ہے، حتی کہ جانوروں اور درختوں کے لیے بھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader