Urdu book · دینِ انسانیت

عمومی عزت

Urdu book, p. 114

By Maulana Wahiduddin Khan

عمومی عزت جابر بن عبد اللہ ایک صحابی ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ مدینہ کے راستہ میں ایک جنازہ گزرا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو دیکھ کر کھڑے ہو گئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ پھر ہم نے کہا کہ اے خدا کے رسول، یہ تو ایک یہودی کا جنازہ تھا۔ آپ نے فرمایا کہ جب تم جنازہ کو دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ: إِذا رَأَيْتُمُ الجِنَازَةَ فَقُومُوا (صحيح البخاري، حدیث نمبر 1311)۔ ایک اور روایت میں ہے کہ سہل بن حُنَيْف اور قیس بن سعد قادسیہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے سامنے سے ایک جنازہ گزرا۔ اس کو دیکھ کر دونوں کھڑے ہو گئے۔ ان سے کہا گیا کہ یہ تو ایک ذمی (غیر مسلم) کا جنازہ تھا۔ دونوں نے جواب دیا کہ مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ گزرا تو آپ کھڑے ہو گئے۔ آپ سے کہا گیا کہ یہ تو ایک یہودی کا جنازہ تھا، آپ نے فرمایا کہ کیا وہ انسان نہ تھا: أَلَيْسَتْ نَفْسًا (صحيح البخاري، حديث نمبر 1312)۔ اس سے اسلام کا ایک نہایت اہم اصول معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ انسان ہر حال میں قابل احترام ہے، حتی کہ اگر وہ غیر مسلم ہو یا دشمن گروہ سے تعلق رکھتا ہو، تب بھی دوسرے پہلوؤں کو نظر انداز کرتے ہوئے اس کو بحیثیت انسان دیکھا جائے گا، اور انسان ہونے کے اعتبار سے ہر حال میں اس کو عزت اور احترام دیا جائے گا۔ انسان خدا کی ایک ممتاز مخلوق ہے۔ قرآن کے لفظوں میں اس کو احسن تقويم ( بہترین ساخت ) کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے۔ انسان اپنی بناوٹ کے اعتبار سے تخلیق کا شاہکار ہے۔ کوئی انسان، اپنا ہو یا غیر، ہر حال میں وہ خدا کی مخلوق ہے۔ ہر حال میں وہ خالق کے کمالات کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page