دینِ انسانیت
Urdu book, p. 115
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک نمونہ ہے۔ اس لیے اختلاف کے باوجود قابل احترام ہے۔ اجنبیت کے باوجود اپنی انسانی حیثیت میں وہ اس قابل ہے کہ اس کو عزت دی جائے۔ مومن ہر چیز میں خدا کا جلوہ دیکھتا ہے۔ ہر مخلوق میں اس کو خالق کا کرشمہ نظر آتا ہے۔ مومن کی یہ نفسیات مجبور کرتی ہے کہ وہ ہر انسان کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے۔ ہر انسان کے لیے اس کے دل میں قدردانی کا جذبہ موجود ہو۔ آفاقی انسان قرآن ایک عالمی کتاب ہے۔ اس کی تمام تعلیمات آفاقیت پر مبنی ہیں، قرآن میں جس خدا کا تصور دیا گیا ہے وہ رب العالمین ہے (الفاتحہ، 2: 1)۔ قرآن کا پیغمبر نذیر للعالمین ہے (الفرقَان، 107: 21)۔ قرآن کے ذریعہ جو دین بھیجا گیا ہے وہ ایک کائناتی دین ہے (آل عمران، 3: 83)۔ قرآن کا پیغام پوری انسانیت کے لیے ہے نہ کہ کسی مخصوص گروہ کے لیے۔ قرآن عالمی قدروں کو زندہ کرنا چاہتا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قال: لَنْ تُؤْمِنُوا حَتَّى تَرَاحَمُوا، قَالُوا: كُلُّنَا رَحِيمٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ بِرَحْمَةِ أَحَدِكُمْ صَاحِبَهُ، وَلَكِنَّهَا رَحْمَةُ النَّاسِ، رَحْمَةُ الْعَامَّةِ (مسند ابی یعلی، حدیث نمبر 4258)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم ہرگز مومن نہیں ہو سکتے جب تک تم رحم نہ کرو۔ لوگوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، ہم میں سے ہر شخص رحم کرنے والا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تم اپنے ساتھی پر مہربانی کرو۔ بلکہ اس سے مراد تمام لوگوں اور تمام انسانوں کے ساتھ رحم کرنا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader