Urdu book · دینِ انسانیت

فرشتہ کی مدد

Urdu book, p. 125

By Maulana Wahiduddin Khan

باتوں کا جواب دیا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آ گیا۔ آپ وہاں سے اٹھ گئے ۔ حضرت ابو بکر چل کر آپ سے ملے اور کہا کہ اے خدا کے رسول وہ آدمی مجھ کو برا کہہ رہا تھا اور آپ وہاں بیٹھے ہوئے تھے (اور خوش تھے) لیکن جب میں نے اس کی بعض بات کا جواب دیا تو آپ غصہ ہو گئے اور وہاں سے اٹھ گئے۔ آپ نے فرمایا کہ (جب تم چپ تھے) تو تمہارے ساتھ ایک فرشتہ تھا جو اس کا جواب دے رہا تھا۔ مگر جب تم نے خود اس کی بات کا جواب دیا تو فرشتہ چلا گیا اور شیطان آگیا۔ ایک آدمی آپ کو برا کہے۔ اس کے جواب میں آپ بھی اس کو برا کہیں تو بات بڑھتی ہے۔ جس آدمی نے پہلے صرف ایک سخت لفظ کہا تھا۔ اس کے بعد وہ سب وشتم پر اتر آتا ہے۔ وہ اپنے ہاتھ پاؤں سے آپ کو تکلیف پہنچانا چاہتا ہے۔ یہاں تک کہ آخر میں پتھر اٹھا لیتا ہے۔ آپ کا جواب نہ دینا اس کو ابتدائی حد پر روک دیتا ہے، اور آپ کا جواب دینا اس کو اس کی آخری حد پر پہنچا دیتا ہے۔ اس کے بجائے اگر ایسا ہو کہ ایک شخص آپ کو برا کہے یا گالی دے مگر آپ خاموش ہو جائیں۔ آپ اشتعال انگیز کلام کے باوجود مشتعل نہ ہوں، تو آپ دیکھیں گے کہ اس کا لہجہ آہستہ آہستہ دھیما ہو رہا ہے۔ اس کے غبارے کی ہوا نکلنا شروع ہو جائے گی۔ یہاں تک کہ دھیرے دھیرے وہ اپنے آپ چپ ہو جائے گا۔ آپ کا بولنا دوسرے کو مزید بولنے پر آمادہ کرتا ہے، اور اگر آپ چپ ہو جائیں تو آپ کا چپ ہونا آخر کار دوسرے شخص کو بھی چپ ہونے پر مجبور کر دے گا۔ دونوں صورتوں میں یہ فرق کیوں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب برا کرنے والے کا جواب برائی سے دیا جائے تو اس کے اندر رد عمل کی نفسیات پیدا ہوتی ہے۔ اب شیطان کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ اس کی انا کو جگائے۔ وہ اس کے غصہ کو بڑھا کر اس کو آخری درجہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page