Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 124

By Maulana Wahiduddin Khan

راوی حضرت عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ: فَمَضَتِ السُّنَّةُ بِأَنَّ الرُّسُلَ لَا تُقْتَلُ (البدایہ والنہایہ، جلد 7، صفحہ 260)۔ یعنی، پھر یہ سنت جاری ہو گئی کہ قاصدوں کو قتل نہ کیا جائے۔ اس سنت نبوی سے اسلام کا ایک نہایت اہم اصول معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ بین اقوامی معاملات میں بین اقوامی رواج پر عمل کیا جائے گا۔ ہر زمانہ میں بین اقوامی تعلقات کے لیے کچھ رواج ہوتے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں بھی اس قسم کے بہت سے رواج ہیں۔ اب اقوام متحدہ نے ان کو زیادہ منظم صورت دے دی ہے۔ اس قسم کے تمام رواج مسلم ملکوں میں بھی اسی طرح قابل احترام ہوں گے جس طرح غیر مسلم ملکوں میں ان کو قابل احترام سمجھا جاتا ہے۔ البتہ اگر اس قسم کے معاملات میں کوئی ایسی چیز رواج پا جائے جو صراحتاً حرام ہو۔ مثلاً بین اقوامی میٹنگوں میں شراب پیش کرنا، تو اس مخصوص جزء کی حد تک اس کی پیروی نہیں کی جائے گی۔ فرشتہ کی مدد عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَجُلاً شَتَمَ أَبَا بَكْرٍ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَعْجَبُ وَيَتَبَسَّمُ، فَلَمَّا أَكْثَرَ رَدَّ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ، فَغَضِبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَقَامَ، فَلَحِقَهُ أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ يَشُتُمُنِي وَأَنْتَ جَالِسٌ، فَلَمَّا رَدَدْتُ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ غَضِبْتَ وَقُمْتَ! قَالَ: إِنَّهُ كَانَ مَعَكَ مَلَكٌ يَرُدُّ عَنْكَ، فَلَمَّا رَدَدْتَ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ، وَقَعَ الشَّيْطَانُ ( مسند احمد، حدیث نمبر 9624 )۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابوبکر کو برا کہا (حضرت ابو بکر چپ رہے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں بیٹھے ہوئے تھے، آپ تعجب کر رہے تھے اور مسکرا رہے تھے۔ پھر جب اس شخص نے بہت زیادہ کہا تو حضرت ابوبکر نے اس کی بعض

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page