اذنِ الله
Urdu book, p. 128
By Maulana Wahiduddin Khan
اذن اللہ قرآن میں ہے: كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ (کتنی ہی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آتی ہیں (2:249)۔ یہ موجودہ دنیا کے لیے اللہ کا قانون ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں عزت اور برتری صرف انھیں لوگوں کا مقدر نہیں ہے جو تعداد اور وسائل میں زیادہ ہوں۔ یہاں کم تعداد اور کم وسائل والا گروہ بھی عزت اور سربلندی حاصل کر سکتا ہے، بشرطیکہ وہ اذن اللہ کی پیروی کرے ۔ یہ اذن اللہ یا خدائی قانون کیا ہے، وہ الرعد (13:17) کے مطابق یہ ہے کہ جو چیز لوگوں کو نفع پہنچانے والی ہے، وہ زمین میں ٹھہرائو اور استحکام حاصل کرتی ہے: وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ ۔ یہی بات حدیث میں اس طرح بیان کی گئی ہے کہ اوپر کا ہاتھ نیچے کے ہاتھ سے بہتر ہے: اَلْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى (صحیح البخاری ، حدیث نمبر (1427)۔ یعنی ، جو ہاتھ دوسروں کو دیتا ہے، وہ اس سے بہتر ہے جو دوسرے سے لینے والا ہے۔ اس کو ایک لفظ میں اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ سماج میں ہمیشہ دو قسم کے گروہ ہوتے ہیں۔ ایک دینے والا گروہ (giver group) اور دوسرا لینے والا گروہ (Taker group) زندگی کا یہ ابدی قانون ہے کہ جو گروہ لینے والا ہو اس کو اس دنیا میں پستی اور مغلوبیت کی سطح پر جگہ ملے۔ اور جو گروہ دینے والا گروہ بنے، اس کو دوسروں کے اوپر عزت اور برتری کا مقام حاصل ہو۔ موجودہ زمانہ میں مسلم رہنماؤں نے احیاء ملت کے نام سے جو تحریکیں اٹھائیں ، وہ زندگی کے اس شعور سے یکسر خالی تھیں ۔ یہ لوگ اس بات کو نہ جان سکے کہ مسلمانوں کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ انھیں تخلیقی گروہ کی حیثیت سے اٹھایا جائے۔ اس کے بجائے انھوں نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader