Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 129

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلمانوں کو علحدگی پسند گروہ (Separatist group) کے طور پر اٹھانے کی کوشش کی ۔ 1947 ء سے پہلے اس علحدگی پسندی کا اظہار جغرافیائی تقسیم کی شکل میں ہوا، اور 1947 ء کے بعد ملی تشخص کی حفاظت کی صورت میں ہو رہا ہے۔ مسلمانوں کی ترقی کا راز علحدگی پسندی میں نہیں بلکہ آفاقیت پسندی میں ہے۔ انھیں تخلیقی گروہ بنانا ہے نہ کہ جامد گروہ۔ انھیں اپنا امتیاز خارجی مظاہر میں نہیں بلکہ معنوی حقیقتوں میں قائم کرنا ہے۔ وہ نفع بخشی کی زمین پر کھڑے ہو سکتے ہیں نہ کہ حقوق طلبی کی زمین پر۔ دعا بھی عمل ابن اسحاق نے روایت کیا ہے کہ مکی دور میں قبیلہ دوس کے ایک شخص طفیل بن عمر والدوسی آپ کے پاس آئے۔ انھوں نے آپ سے قرآن کو سنا اور پھر اسلام قبول کر لیا۔ اس کے بعد آپ کی اجازت سے وہ اپنے قبیلہ میں واپس گئے اور ان کو اسلام کی طرف بلانا شروع کیا مگر قبیلہ کے لوگوں نے انکار اور سرکشی کا رویہ اختیار کیا۔ طفیل بن عمر دوبارہ آپ کے پاس آئے اور کہا کہ قبیلہ دوس کے لوگ حق کے معاملہ میں سرکشی کر رہے ہیں۔ آپ ان کے خلاف بد دعا کیجیے۔ آپ نے اس کے برعکس ہاتھ اٹھایا اور ان کے حق میں دعا کرنا شروع کیا: اے اللہ، تو قبیلہ دوس کو ہدایت دے، اے اللہ تو قبیلہ دوس کو ہدایت دے۔ پھر آپ نے طفیل بن عمرو سے کہا کہ اپنے قبیلہ کی طرف واپس جاؤ اور اس کو دوبارہ دعوت دو۔ اور اس کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرو (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 384-382) یہ دعا اور یہ نصیحت کوئی سادہ سی بات نہیں تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ آپ نے طفیل بن عمرو کو منفی نفسیات سے نکال کر مثبت نفسیات کی طرف موڑ دیا۔ جن لوگوں کے بارے میں ان کے اندر بیزاری کا جذبہ پیدا ہو گیا تھا ان کے لیے ان کے اندر خیر خواہی کا جذبہ بیدار کر دیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page